شکر گزار، ان کی تعریف کرنے والا اور ان کے قابل بنا اورانہیں ہم پر مکمل فرما۔(1)
روحیں محبت کرتی ہیں:
(4963)…حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:حضورسیّدعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:اَلْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَیعنی روحیں مخلوط لشکر ہیں ان میں سے جو جان پہچان رکھتی ہیں وہ محبت کرتی ہیں اور جو اجنبی رہ چکی ہیں وہ الگ رہتی ہیں(2)۔ (3)
(4964)…حضرتِ سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ حضور تاجدارِ مدینہ، سلطانِ مکہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک قوم کی کوڑی(کچرا کنڈی) پر تشریف لائے تو کھڑے ہو کرپیشاب کیا۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مستدرك حاکم،کتاب الامامة وصلوة الجماعة،باب الدعاء المباركة،١/ ٥٤۹ ،حديث:۱۰۱۶ ،بتغير قليل
2…مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمراٰۃ المناجیح،جلد6،صفحہ584پر اس کے تحت فرماتے ہیں: یعنی انسانی روحیں بدنوں میں آنے سے پہلے آپس میں مخلوط تھیں اس طرح کہ سعید روحیں ایک گروہ تھیں اور شقی روحیں دوسرا گروہ مگر سعیدآپس میں مخلوط تھیں اور شقی آپس میں مخلوط۔جب یہ روحیں بدنوں میں آئیں تو ہرروح کو اس روح سے الفت ہوگئی جس کے ساتھ پہلے خلط ملط رہ چکی ہےاگرچہ دنیا میں مختلف زمانوں مختلف زمینوں میں رہیں۔جو روحیں وہاں عالَمِ اَرْوَاح میں الگ الگ تھیں کہ یہ روح ایک زمرہ کی تھی وہ روح دوسرے زمرہ کی وہ بدن میں آنے کے بعد اگرچہ ایک جگہ رہیں مگر ان میں الفت نہ ہوگی نفرت ہوگی:
نارِیاں مَرْنارِیاں رَا طالِب اَنْد نُورِیاں مَرْنُورِیاں رَا جاذِب اَنْد
کَنْعان حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَامکا بیٹا ہوکر الگ رہا،بلقیس یمن میں رہتے ہوئے حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامکے پاس پہونچ گئی،ابوجہل مکہ میں رہتے ہوئے حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)سے دور رہا،اویس قرنی(عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی)دور رہتے ہوئے حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)سے قریب ہورہے۔بُعدِ دار اور قُرب مزار کچھ نہیں۔
3… بخارى، کتاب احادیث الانبیاء،باب الارواح جنود مجندة،۲/ ۴۱۳ ،حدیث: ۳۳۳۶، عن عائشة رضى الله عنه
معجم اوسط، ۴/ ۶۳ ،حدیث:۵۲۲۰
4… مفسر شہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح ، جلد1، صفحہ270 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: یا تو وہاں بیٹھنے کی جگہ نہ تھی کیونکہ کوڑی پر ہر جگہ نجاست ہی ہوتی ہے یا پاؤں شریف میں زخم یا پیٹھ میں درد تھا جس کے لیے کھڑے ہو کر پیشاب کرنا مفید تھا۔ اطبا کہتے ہیں کھڑے ہو کر انگارے پر پیشاب کرنا ستر بیماریوں کا علاج ہے۔ خیال رہے کہ اس موقعہ پر سرکار اونچی جگہ کھڑے ہوئے ہوں گےجس سے پیشاب کے چھینٹوں سے محفوظ رہے ہوں گے۔