گزاروں کو ہلکا جانیں گے،قرآن میں سے جو ان کی خواہشات کےموافق ہواسی پر عمل کریں گے اور جو خواہشات کے خلاف ہو اسے چھوڑ دیں گےپس اس وقت قرآن پاک کے بعض حصے کو مان لیں گے اور بعض کا انکار کر بیٹھیں گے، اس کی کوشش کریں گے جو بغیر کوشش کے مل جانا ہے یعنی مقدر ومقرر اور اٹل رزق جو ان کے نصیب کا ہے اور اس چیز کی کوشش نہیں کریں گے جو بغیر کوشش کے ملتی ہی نہیں یعنی بھرپور ثواب، مقبول کوشش اور ایسی تجارت جس میں گھاٹا نہیں۔(1)
حج و عمرہ ایک ساتھ کرو:
(4961)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ ، سردارِ مکہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: حج وعمر ایک ساتھ کرو کیونکہ یہ دونوں محتاجی اور گناہوں کو ایسے دور کر دیتے ہیں جیسےبھٹی سونے، چاندی اور لوہے کے میل کو دور کر دیتی ہے اور مقبول حج کا ثواب توجنت ہی ہے۔(2)
ایک بہترین دعا:
(4962)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: معلِّم کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہمیں یہ کلمات سکھایا کرتے تھے: اَللّٰهُمَّ اَلِّفْ بَيْنَ قُلُوْبِنَا وَاَصْلِحْ ذَاتَ بَيْنَنَا وَاهْدِنَا سُبُلَ السَّلَامِ وَنَجِّنَا مِنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّورِ وَجَنِّبْنَا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَبَارِكْ لَنَا فِىْ اَسْمَاعِنَا وَاَبْصَارِنَاوَقُلُوْبِنَاوَاَزْوَاجِنَاوَذُرِّيَّاتِنَاوَتُبْ عَلَيْنَااِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ وَاجْعَلْنَاشَاكِرِيْنَ لِنِعْمَتِكَ مُثْنِيْنَ بِهَاقَابِلِيْهَاوَاَتِمَّهَاعَلَيْنَایعنی اےاللہ!ہمارےدلوں میں محبت پیدافرما،ہمارےدرمیان صلح پیدافرما،ہمیں سلامتی کے راستوں کی ہدایت عطا فرما، ہمیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال دےاور ہمیں ظاہری وباطنی گناہوں سے بچا اور ہمارے لیے ہمارے کانوں، ہماری آنکھوں، ہمارے دلوں، ہماری بیویوں اور ہماری اولاد میں برکت عطا فرما اور ہماری توبہ قبول فرما بے شک تو بہت توبہ قبول فرمانے والا مہربان ہےاور ہمیں اپنی نعمتوں کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر ،۱۰/ ۱۹۳ ،حدیث: ۱۰۴۳۲،بتغیر قلیل
2…ترمذی،کتاب الحج ،باب ما جا ء فی ثواب الحج والعمرة، ۲/ ۲۱۸،حدیث: ۸۱۰