Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
136 - 475
 کسی شخص کے یہ کہنے کو ناپسند کرتے تھے کہ ’’اے اللہ! مجھے جہنم سے آزاد فرما‘‘ کیونکہ آزاد  تو وہ کرتا ہے جسے ثواب کی امید ہواور یہ کہنا بھی ناپسند کرتے تھے کہ’’اےاللہ!مجھ پر جنت صدقہ فرما‘‘ کیونکہ صدقہ بھی ثواب ہی کی امید پر کیا جاتا ہے(اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّکو کسی ثواب کی کوئی حاجت نہیں)۔
(4927)…حضرتِ سیِّدُناعاصمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں: میں نےحضرتِ ابو وائلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو سجدے کی حالت میں دیکھا کہ آپ کہہ رہے ہیں: اے میرے ربّ! مجھے بخش دے، اے میرے ربّ! مجھے معاف فرما، اگر تو مجھے معاف کر دے تو یہ تیرے فضل سے مجھ پر احسان ہوگااور اگر تو مجھے عذاب دے تو ظالِم بھی نہیں اور نہ تیرے سوا کوئی  جائے پناہ ہے۔ پھر آپ اتنی زور سے رونے لگے کہ آپ کی سسکیوں کی آواز مسجد کے باہر بھی سنی جا سکتی تھی۔
بُرائی پر برائی:
(4928)…حضرتِ سیِّدُناابو وائل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ میں حضرتِ مَسْروق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفُوْرکے ساتھ عُبیداللہ بن زیاد کے پاس  بصرہ گیا اس وقت اس کے سامنے اصفہانی خراج کے تیس لاکھ چاندی کے سکے (درہم) پڑے ہوئے تھے، اس نے مجھ سے کہا: اے ابو وائل! جو شخص اتنا مال چھوڑ کر مرے اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ میں نے کہا:  اگر یہ سب مال ظلم ودھوکا دیہی سے حاصل کیا گیا ہو تو تب کیسا ہے؟ وہ بولا: پھر تو برائی پر برائی ہے۔پھر مجھ سے کہنے لگا: جب تم کوفہ آؤ تو میرے پاس بھی آنا میں تمہارے ساتھ بھلائی کروں گا۔ حضرتِ سیِّدُناابو وائل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:  جب میں وہاں سے لوٹا تو سوچا اس بارے میں حضرتِ علقمہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مشورہ کرنا چاہیے۔چنانچہ میں ان کے پاس چلا گیا اور کہا:میں ابنِ زیاد کے پاس گیا تھا اس نے مجھ سے ایسا ایسا کہا ہے آپ اس بارے میں کیا مشورہ دیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اگر تم میرے پاس آنے سے پہلے اس کے پاس کوفہ چلے جاتے تو پھر میں تمہیں کوئی مشورہ نہ دیتا اب چونکہ تم پہلے ہی میرے پاس آگئے ہو تو مجھ پر حق ہے کہ تمہیں نصیحت کروں،خدا کی قسم! مجھے یہ بات ہرگز خوش نہیں کرتی کہ  میرے پاس دو ہزار ہوں اور میں مزید دو ہزار کے لیے لوگوں کو مجبور کروں، میں نے کہا: اےابو شبل! ایسا کیوں؟ انہوں نے فرمایا: کیونکہ مجھے خوف ہے کہ جتنا لوگوں سے لیا جاتا ہے وہ اس