میں مصروف تھا ، ہم نے اس شخص کو جگایا اور کہا: تم ایسی جگہ سو رہے ہو؟ اس نے سر اٹھایا اور کہا: مجھے عرش والے سے حیا آتی ہےکہ وہ مجھے اپنے سوا کسی سے ڈرتا ہوا دیکھے۔ اس نے پھر سر رکھا اور سو گیا۔
(4922)…حضرتِ سیِّدُنا ابو وائل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا وظیفہ دو ہزار درہم تھا جب آپ گھر سے کہیں جاتے تو گھر والوں کے لیے سال بھر کی ضرورت کے مطابق رکھ دیتے اور باقی سب صدقہ کر دیتے تھے۔
آگ کے کانٹے:
(4923)…حضرتِ سیِّدُناعاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا وائل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو کبھی بھی ادھر ادھر متوجہ ہوتے نہیں دیکھااور نہ ہی کبھی کسی جانور کو برا بھلا کہتے سنا، ہاں ایک مرتبہ حجاج کی بات ہوئی تو آپ نے کہا: اے اللہ! حجاج کو آگ کے کانٹے کھلا جن سے نہ وہ موٹا ہو اور نہ کبھی اس کی بھوک مٹے۔ پھر اپنی اس بات کی تلافی کے لیے کہا: اے اللہ!اگر یہ تجھے پسند ہو تو۔ میں نے کہا: آپ حجاج کو مستثنیٰ کر رہے ہیں؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ہم اس بات کو بھی گناہ شمار کرتے ہیں۔
کسی کو گالی مت دو:
(4924)…حضرتِ سیِّدُنا زِبَرْقان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُناابو وائلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےپاس بیٹھا تھا،اس وقت میں حجاج کوبُرابھلاکہتےہوئےاس کی بُرائیاں بیان کرنےلگا تو حضرتِ سیِّدُنا ابووائل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: اسے گالی مت دو، تمہیں کیا معلوم ہو سکتا ہے اس نے کہا ہو: اے اللہ! مجھے بخش دے،تواللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے بخش دیا ہو۔
رجوع کرنے والا:
(4925)…حضرتِ سیِّدُنا عاصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجب حضرتِ ربیع بن خُثَیمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو دیکھتے تو فرماتے: عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری دو اور جب حضرتِ ابو وائل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو دیکھتے تو فرماتے: اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف رجوع کرنے والا۔
ربّ تعالیٰ کو ثواب کی حاجت نہیں:
(4926)…حضرتِ سیِّدُناعطا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابو وائلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ