حضرت سیّدُنا شَقیق بن سَلَمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
تابعینِ کرام میں سے ایک حضرتِ سیِّدُنا ابو وائل شقیق بن سلمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبھی ہیں جنہیں محبتِ الٰہی کی دیوانگی اور کثرت عبادت نے لاغر وکمزور کر دیا۔
ربّعَزَّ وَجَلَّکاخوف:
(4917)…حضرتِ سیِّدُناابو بکر بن عَیَّاش عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَہَّابفرماتے ہیں:حضرتِ سیِّدُناابو وائلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجب اپنے گھر میں نماز پڑھتے تو روتے روتے آپ کی ہچکیاں بندھ جاتیں، اگر ان کے سامنے ساری دنیا رکھ دی جاتی اور کہا جاتا کہ کسی ایک کے سامنے ہی ایسا کر لیں تو وہ کبھی نہ کرتے۔
(4918)…حضرتِ سیِّدُنامغیرہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُناابراہیم تَیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی حضرتِ سیِّدُناابو وائل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے گھر میں وعظ کیا کرتے تھے اور حضرتِ سیِّدُنا ابو وائل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ پرندوں کی طرح پھڑپھڑاتے تھے۔
(4919)…حضرتِ سیِّدُنا سعید بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابو وائلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھا کہ جب آپ رونے کی آواز سنتے تو رونے لگ جاتے۔
رحمتِ الٰہی:
(4920)…حضرتِ سیِّدُنامعرف بن واصلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ہم حضرتِ سیِّدُناابو وائل شقیق بن سلمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے پاس بیٹھے تھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے مخلوق سے قریب ہونےکا ذکر چھڑ گیا، حضرتِ سیِّدُناابو وائل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتا ہے: اے ابنِ آدم!تو مجھ سے ایک بالشت قریب ہو میں ایک ہاتھ تیرے قریب ہو جاؤں گا، تو ایک ہاتھ مجھ سے قریب ہو میں ایک فرلانگ تیرے قریب ہو جاؤں گا، تو میری طرف چل میں تیری طرف دوڑوں گا۔(مراد ربّ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہے)۔
کسی اور سے ڈرنے میں حیا آتی ہے:
(4921)…حضرتِ سیِّدُناابو وائلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ہم ایک تاریک رات میں ایک جھاڑی کے پاس سے گزرے تو وہاں ایک شخص کو سوتےپایا، اس کا گھوڑا اس کے سرہانے بندھا گھاس کھانے