Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
132 - 475
 عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:صور پھونکے والے فرشتے کو جب سے صور پھونکنے پر مقرر کیا گیا ہے اس وقت سے اس نےپلک نہیں جھپکی وہ نظریں جمائے عرش  کی طرف  دیکھ رہا ہے اس خوف سے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ اسے حکم دیا جائے  اور پلک جھپکنے جتنی دیر ہو جائے اس کی آنکھیں گویا دو روشن ستارے ہیں۔(1)
(4910)…حضرتِ سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ صاحبِ جود وسخا، جناب احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  تم میں سے ہر ایک کو اپنے بھائی کی آنکھ کا تنکا تو نظر آجاتا ہے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیر بھول جاتا ہے۔(2)
صرف اللہ چاہے:
(4911)…حضرتِ سیِّدُناابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت  میں یوں عرض کی: جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: تم نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شریک ٹھہرا دیا؟ (یوں کہو) جو صرف اللہچاہے(3)۔ (4)
شرک، جادو اور کینہ سے بچو:
(4912)…حضرتِ سیِّدُناابنِ عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتے ہیں کہ پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس شخص میں ان تین باتوں میں سے ایک بھی نہ ہو اللہ عَزَّ  وَجَلَّان کے علاوہ جو چاہتا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… العظمة لابى شيخ وصفة اسرافيل عليه السلام، ص۱۴۵، حديث:۳۹۳
2…مسندالفردوس،۲/ ۴۸۷،حدیث: ۸۳۶۱،دون ”متعرضًا“ …… الادب المفرد،باب البغی ،ص۱۶۸، حدیث: ۶۰۵
3… مفسرشہیرحکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح،جلد6،صفحہ423پراس مفہوم  کی ایک حدیث مبارکہ  ’’یہ نہ کہو کہ چاہا اللہنے اور چاہا محمد نے (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اور کہو کہ صرفمَا شَآءَ اللہ‘‘کے تحت فرماتے ہیں: یہ فرمان عالی انتہائی انکسار وتواضع سے ہے کہ ہماری مشیت کا ذکر اللہکی مشیت کے ساتھ ’’ثُمَّ‘‘ سے بھی نہ کرو صرف مَاشَآءَ اللہ کہو۔ خیال رہے کہ قرآن کریم میں بہت جگہ حضور کا نام شریف رب کے نام سے ملایا گیا ہے دیکھو: اَغْنٰہُمُ اللہُ وَرَسُوۡلُہٗ ۔  وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَرَسُوۡلَہٗ ۔  وَاللہُ وَرَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرْضُوۡہُ  ۔ لہذا یہ حدیث یا ضعیف ہے یا ان آیات سے منسوخ ہے یا استحباب کے بیان کے لیے ہے یا اظہار تواضع وانکسار کے لیے ہے بہرحال اس ملانے میں شرعًا گناہ نہیں۔
4… مستدرك حاکم،کتاب الایمان و النذور،باب تسبیح دیك رجلاه...الخ،۵/ ۴۲۳،حدیث:۷۸۸۵ ،بتغیر،عن قتیلة بن صيفى 
	الادب المفرد،باب قول الرجل ما شاءاللّٰہ وشئت،ص ۲۱۵،حدیث:۸۰۴