عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:اِنَّ اللهَتَعَالٰی لَا يَنْظُرُ اِلٰى صُوَرِكُمْ وَاَمْوَالِكُمْ وَلٰكِنْ اِنَّمَا يَنْظُرُ اِلٰى قُلُوْبِكُمْ وَاَعْمَالِكُم یعنی بےشکاللہ عَزَّ وَجَلَّتمہاری صورتوں اورتمہارےمالوں کی طرف نظرنہیں فرماتابلکہ وہ تمہارےدل اور تمہارے اعمال دیکھتا ہے۔(1)
محتاجی کا خوف نہیں:
(4907)…حضرتِ سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ شفیْعِ محشر، ساقِیِ کوثر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: امیری زیادہ مال واسباب سے نہیں بلکہ امیری تو دل کی ہے اور اللہکی قسم! مجھے تم پر غلطی کا خوف نہیں لیکن میں تمہارے جان بوجھ کر(گناہ کرنے) کا خوف رکھتا ہوں اور مجھے تم پر محتاجی کا خوف نہیں لیکن کثرت سے مال جمع کرنے کا خوف ہے۔(2)
قیامت کی چند نشانیاں:
(4908)…حضرتِ سیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے(قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے)ارشاد فرمایا: فتنے ظاہر ہوں گے اور ہَرْج زیادہ ہو جائے گا۔عرض کی گئی: یَارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہَرْج سے کیا مراد ہے؟ارشاد فرمایا: قتل عام ہونا اور علم کا اٹھ جانا۔ جب یہ بات امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سنی تو فرمایا: علم کے اٹھ جانے سے مراد کوئی چیز نہیں ہے جو لوگوں کے سینوں سے نکال لی جائے بلکہ اس سے مراد علما کا ختم ہو جانا ہے۔(3)
کبھی پلک نہیں جھپکی:
(4909)…حضرتِ سیِّدُناابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ نبی رحمت، شفِیعِ امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مسلم ،کتاب البر والصلة والا ٰداب،باب تحریم ظلم المسلم...الخ،ص۱۳۸۷،حدیث:۲۵۶۴
2…بخاری ، کتاب الرقاق، باب الغنٰی غنی النفس،۴/ ۲۳۳، حدیث:۶۴۴۶
مسند احمد،مسند ابی ھریرة،۳/ ۱۷۸،حدیث:۸۰۸۰ ،بتقدم وتاَخر
3… بخاری،کتاب الفتن،باب ظھور الفتن،۴/ ۴۳۱،حدیث:۷۰۶۱، ۷۰۶۲،بتغیر
مسند الحارث،کتاب الایمان،باب ذھاب العلم،۱/ ۲۰۳، حدیث: ۶۳