چاند زمین پر اتاروں گا:
(4903)…حضرتِ سیِّدُنا یزید بن اصمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ایک شخص نےزمانہ جاہلیت میں شراب پی اور نشہ میں مدہوش ہو کر چاند کے پیچھے پڑ گیا اور قسم کھا لی کہ اسے نیچے اتار کر رہوں گا، اس کام کے لیے اس نے چھلانگ لگائی اور اوندھے منہ گر پڑا جس سے اس کا چہرہ زخمی ہو گیا وہ اسی طرح کرتے کرتے سو گیا، جب صبح ہوئی تو اپنے گھر والوں سے پوچھا: میرا یہ حال کیسے ہوا؟ انہوں نے کہا: تم نے قسم کھائی تھی کہ چاند کو ضرور نیچے اتارو گے پھر تم نے چھلانگ لگائی تو منہ کے بل گر پڑے اور تمہارا یہ حال ہو گیا جو تم خود دیکھ رہے ہو۔ اس نے کہا: شراب نے مجھے اتنا چڑھا دیا کہ میں چاند کو زمین پر اتاروں؟ خدا کی قسم! اب کبھی بھی شراب نہیں پیوں گا۔
(4904)…حضرتِ سیِّدُنا امام حسین بن علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاجب کوفہ کی طرف روانہ ہونے لگے تو حضرتِ سیِّدُنایزید بن اصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے آپ کو ایک مکتوب لکھا: اما بعد! بے شک اہل کوفہ آپ کو پریشان کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں اور جو چیز پریشان کی جائے وہ سلامت نہیں رہتی، میں آپ کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ چاہتا ہوں کہ کہیں آپ آسمانی بجلی سے فائدہ اٹھانے والے یا سراب کے طرف بڑھنے والے کی طرح نہ ہو جائیں، صبر کیجئے گا بے شک اللہکا وعدہ سچا ہے اور یقین نہ رکھنے والے آپ کو ہرگز کمزور نہ کریں۔
سیّدُنا یزیدبن اصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مرویات
حضرتِ سیِّدُنا یزید بن اصمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ،سیِّدُنا عبداللہ بن عباس،سیِّدَتُنا عائشہ صدِّیقہ اور سیِّدَتُنا میمونہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنسے بالمشافہ احادیث روایت کرتے ہیں۔
(4905)…حضرتِ سیِّدُناابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ حضور سید عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:يَقُوْلُ اللهُعَزَّ وَجَلَّ:عَبْدِيْ عِنْدَ ظَنِّهٖ بِيْ وَاَنَامَعَهٗ اِذَادَعَانِيْیعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: میرا بندہ اپنے گمان کے مطابق میرے قریب ہوتا ہے اور جب وہ مجھے پکارے تو میں اس کے پاس ہی ہوتا ہوں۔(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّدل دیکھتا ہے:
(4906)…حضرتِ سیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہروایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم، نور مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری،کتاب التوحید ،باب قول اللّٰہ(ویحذرکم اللّٰه نفسه)،۴/ ۵۴۱، حدیث:۷۴۰۵،بتغیر قلیل