Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
129 - 475
 تَعَالٰی عَنْہَا مکہ سے تشریف لا رہی تھیں۔ میں اور ان کا بھانجا یعنی حضرت طلحہ بن عبیداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیٹا ان سے ملے،اس سے پہلے ہم مدینے کے ایک باغ میں گئے تھے جہاں ہمیں کچھ چوٹیں آئیں تھیں اور یہ بات آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاتک پہنچ چکی تھی آپ اپنے بھانجے کی طرف بڑھیں اور اسے ڈانٹا  پھر میری طرف متوجہ ہوئیں اور انتہائی عمدہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:  کیا تم نہیں جانتے کہ تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے یہاں بھیجا حتّٰی کہ اپنے نبی کے گھر میں تمہیں جگہ دی۔ وَاللہ!میمونہ چلی گئیں اور تمہاری لگام تمہارے ہی کندھے پر ڈال دی (یعنی تمہیں آزاد چھوڑ دیا)، یقیناًوہ بہت زیادہ خوف خدا رکھنے والی اور بہت صلہ رحمی کرنے والی تھیں۔
نصیحت کا طریقہ:
(4902)…حضرتِ سیِّدُنا یزید بن اصم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ایک شامی شخص کافی بہادر تھا اور اپنی بہادری کی وجہ سے امیر المؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی نظر میں ایک مقام رکھتا تھا، کافی عرصہ تک جب وہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس نہ آیا تو آپ نے اس کے متعلق پوچھا ، آپ کو بتایا گیا کہ وہ اب شراب کے نشے میں رہنے لگا ہے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے کاتب کو بلایا اور فرمایا: لکھو! عمر بن خطاب کی جانب سے فلاں کی طرف، تم پر سلام ہو، میں تمہارے ساتھ اللہکی نعمت پر اس کا شکر ادا کرتا ہوں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ گناہوں کو بخشنے والا، توبہ قبول فرمانے والا، شدید پکڑ کرنے والااور خوب  مہربان بھی ہے اس کے سوا کوئی لائِقِ عبادت نہیں اور اسی کے طرف لوٹنا ہے۔ پھر آپ نے دعا کی اور پاس بیٹھے لوگوں نے آمین کہی اور سب نے یہ دعا کی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کے دل کو پھیر دے اور وہ توبہ تائب ہو جائے۔ جب وہ مکتوب اس شخص کے پاس پہنچا تو اس نے پڑھنا شروع کیا اور کہتا جاتا: گناہوں کو بخشنے والا!  یقیناً میرے ربّ نے مجھ سے بخشش کا وعدہ کیا ہے، وہ توبہ قبول فرمانے والا ہے  اس کی پکڑ شدید ہے یقیناً اس نے مجھے اپنے عذاب سے بچالیا ہے، وہ بہت مہربان ہے اور مہربانی تو بھلائی ہی بھلائی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی طرف پھرنا ہے۔وہ شخص یہی کہتا رہتا اور خود پر روتا رہتا، اس نے شراب سے بھی سچی پکی توبہ کر لی، جب یہ بات امیرالمؤمنین  حضرتِ سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتک پہنچی تو آپ نے فرمایا: جب تم اپنے کسی بھائی کو بھٹکتا ہوا دیکھو تو اسی طرح اس کا راستہ روکو اور اسے نصیحت کرو اور اس کے حق میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے دعا کرو کہ وہ اسے توبہ کی توفیق دے۔