عَنْہ آپ کی دائیں جانب اورحضرتِ سیِّدُناعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بائیں جانب بیٹھے تھے،حضرتِ سیِّدُنا علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےعرض کی:آپ ان دونوں کوکیوں نہیں بھیج رہے؟ارشادفرمایا:كَيْفَ اَبْعَثُهُمَاوَهُمَامِنْ هٰذَا الدِّيْنِ بِمَنْزِلَةِ السَّمْعِ وَالْبَصَرِ مِنَ الرَّاْسِمیں ان دونوں کو کیسے بھیج دوں یہ دونوں دین اسلام کے لیے اتنے ہی ضروری ہیں جتنے کان اورآنکھ سر کے لیے۔(1)
حضور نےمیقات مقرر فرمائے:
(4882)…حضرتِ سیِّدُناابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:نبی اکرم،نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اہل مدینہ کے لیے ذُوالْحُلَیْفَہ، اہل یمن کے لیے یَلَمْلَمْ، اہل شام کے لیے جُحْفَہ اور اہل طائف کےلیے قِرن کو میقات مقرر فرمایا۔مجھے دیگر صحابَۂ کرام نے بتایا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اہل عراق کے لیے ذاتِ عِرق کو میقات مقرر فرمایا ہے۔(2)
داڑھی منڈوانا مونچھیں بڑھانا:
(4883)…حضرتِ سیِّدُناابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:نورِ مُعَظَّم، شافِعِ اعظمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجوسیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا:اِنَّهُمْ يُوَفِّرُوْنَ سِبَالَهُمْ وَيَحْلِقُوْنَ لِحَاهُمیہ لوگ مونچھیں بڑھاتے اور داڑھیاں منڈواتے ہیں۔ اس حدیث کے راوی حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اپنی مونچھیں ایسے کاٹتے تھے جیسے ہم بکریوں کی اون اتارتے ہیں۔(3)
(4884)…حضرتِ سیِّدُناابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: جس کے مال کو چھینا جا رہا ہو اور وہ اسے بچانے کی مزاحمت کرتے ہوئے قتل ہو جائے تو شہید ہے۔(4)
(4885)…حضرتِ سیِّدُناابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: نبی آخر الزماں، شہنشاہِ کون ومکاں صَلَّی اللہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… تاریخ ابن عساکر،الرقم:۵۲۰۶،عمر بن الخطاب ،۴۴/۶۸ ،حدیث: ۹۴۶۹
2… مسند ابی یعلٰی،مسند جابر بن عبد اللّٰہ، ۲/ ۳۴۰ ،حدیث: ۲۲۱۹ ، عن جابر رضی اللّٰہ عنہ
3… سنن الکبرٰی للبیھقی ،کتاب الطھارة،باب کیف الاخذ من الشارب، ۱/ ۲۳۴ ،حدیث: ۶۹۶
4… ترمذی ،کتاب الدیات،باب ماجاءفی من قتل ...الخ،۳/ ۱۱۱ ، حدیث: ۱۴۲۵،عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنہ