کریمین) کے برابر کہا جائے گا، ان کی تو کیا بات ہے وہ دونوں اسلام کی بنیاد اور مسلمانوں کا فخر تھے۔ میں نے کہا: امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپہلے اسلام لائے تھے یا امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ؟آپ نےفرمایا:بخدا!حضرتِ سیِّدُناابو بکررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتواس زمانےمیں ہی ایمان لے آئے تھے جب بحیرہ راہب کے پاس سےآپ کا گزر ہوا تھااور ایسا ہی اختلاف آپ کےاور اُمُّ المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُناخدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے اَوَّلُ الْاِسلام ہونے میں بھی کیا گیا جبکہ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا نکاح اس واقعے کے بعد ہوا تھا اور یہ سب حضرتِ سیِّدُنا علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی پیدائش سے بھی پہلے کی بات ہے۔
سیِّدُنامَیْمون بن مِہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کی مرویات
حضرتِ سیِّدُنا میمون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےحضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عمر اور حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْسے احادیث روایت کی ہیں۔
آداب سفر:
(4878)…حضرتِ سیِّدُناابنِ عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھل دینے والے درخت کے نیچےاور بہتی نہر کے کنارے تنہا شخص کے پڑاؤ ڈالنے کو منع فرمایا ہے۔(1)
چغلی اور غیبت:
(4879)…حضرتِ سیِّدُناابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں: پیارے آقا، مدینے والے مصطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چغل خوری، غیبت کرنے اور غیبت سننے سے منع فرمایا ہے۔(2)
شانِ شَیْخَین رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا:
(81-4880)…حضرتِ سیِّدُناابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قَلْب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک شخص کو کسی کام سےبھیجنے کا ارادہ فرمایا،اس وقت حضرتِ سیِّدُنا ابو بکررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… معجم اوسط،۲/ ۳۰ ،حدیث:۲۳۹۲
2…معجم اوسط،۲/ ۳۱،حدیث:۲۳۹۳…… مجمع الزوائد،کتاب الادب،باب ماجاء فی الغیبةوالنمیة،۸/ ۱۷۲،حدیث:۱۳۱۲۲