بوجھ ہلکا کرو:
(4873)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: اے ابنِ آدم! اپنی پیٹھ کا بوجھ ہلکا کر کیونکہ تیری پیٹھ یہ سب سہنے کی طاقت نہیں رکھتی جو تو نے اس پر لاد رکھا ہے کہ کسی پر ظلم کیا، کسی کا مال کھایا اور کسی کو گالی دی یہ سارا بوجھ تو نے اپنی پیٹھ پر لادا ہوا ہے لہٰذا اسے ہلکا کر۔ مزید فرماتے ہیں: تمہارے اعمال بہت تھوڑے ہیں لہٰذا اس تھوڑے کو ہی خالص کر لو۔ مزید فرماتے ہیں: جب لوگوں کی ہلاکت کا وقت آجائے تو وہ اپنی مجلسوں میں گناہ کرتے ہیں۔
(4874)…ایک دن حضرتِ سیِّدُنامیمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّہَا الْمُجْرِمُوۡنَ ﴿۵۹﴾ (پ۲۳،یٰس:۵۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور آج الگ پھٹ جاؤ اے مجرمو۔
پھر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہپر رقت طاری ہوگئی حتّٰی کہ رو پڑے پھر فرمایا: مخلوق نے اس سے زیادہ تھکانے والا کلام کبھی نہ سنا ہو گا۔
چار کے متعلق کلام نہ کرو:
(4875)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: چار کے بارے میں گفتگو مت کرنا (یعنی پیچھے نہ پڑ جانا):(۱)…امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم(۲)…امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ(۳)…تقدیر اور (۴)…ستارے۔
(4876)…حضرتِ سیِّدُنا میمونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: ہر ایسی خواہش سے بچو جسے اسلامی نہ کہا جاتاہو۔
مسلمانوں کا فخر:
(4877)…حضرتِ سیِّدُنا فُرات بن سائِبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا میمونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے پوچھا:آپ کے نزدیک حضرتِ سیِّدُناابو بکر وعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا افضل ہیں یا حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم؟ یہ سنتے ہی آپ پر کپکپی طاری ہو گئی حتّٰی کے ہاتھ سے لاٹھی بھی گر گئی، پھر فرمایا: میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میں ایسے زمانے تک زندہ رہوں گا جس میں کسی کو ان دونوں (شیخین