کسی چیز کو ترجیح نہیں دیتے تھے اور آج یہ حال ہے کہ لوگ دنیا سے زیادہ کسی چیز کو اہمیت نہیں دیتے پس میں سمجھ گیا کہ آج کے دور میں نیک اور بد دونوں کے لیے موت ہی بہتر ہے۔ جب وہ چلا گیا تو حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنے فرمایا: اےابو ایوب! راہب نے سچ کہا ہے۔
(4866)…حضرتِ سیِّدُنامیمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: فاسق شخص درندے کی طرح ہے اگر تم نے اسے زخمی کر کےاس کا راستہ چھوڑ دیا تو یقیناً تم نے مسلمانوں کے لیے ایک درندہ آزاد چھوڑ دیا۔
تین بہترین اقوال:
(4867)…حضرتِ سیِّدُنامیمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتےہیں:جویہ دیکھ کرخوش ہوناچاہےکہ کل اس کا مقام ومرتبہ کیا ہو گا تو وہ دنیا میں اپنے عمل کو دیکھ لے جیسا عمل ہو گا ویسا ہی مرتبہ ہو گا۔
(4868)…حضرتِ سیِّدُنامیمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتےہیں:جب محبت ثابت ہو جائے تو طویل انتظار میں کوئی حرج نہیں۔
(4869)…حضرتِ سیِّدُنامیمون بن مہرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانتم قرض خواہ کو اپنے پیٹ یا پیٹھ سے ہلکا مت جانو۔
اون کا جبہ:
(4870)…حضرتِ سیِّدُناحبیب بن ابو مَرزوقرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کو کپڑوں کے نیچے اون کا جبہ پہنے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا : یہ کیا؟ فرمایا: ہاں! اس کا کسی کو بتانا نہیں۔
اللہعَزَّ وَجَلَّعار نہیں دلاتا:
(4871)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں:جو پوشیدہ گناہ کرے وہ پوشیدہ توبہ کرے اور جو علانیہ گناہ کرے وہ علانیہ توبہ کرے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّمعاف فرماتا ہے عار نہیں دلاتا جبکہ لوگ عار دلاتے ہیں معاف نہیں کرتے۔
(4872)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: بدترین لوگ عیب نکانے والے ہوتے ہیں اور کَتان (اَلسی کا لباس)مالدار یا سرکش ہی پہنتا ہے۔