آخرت کے معاملے میں کچھ ہی دیر ہے۔
دین کے ریاکار:
(4863)…حضرتِ سیِّدُنایونس بن عُبَیْدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: جب حضرتِ سیِّدُنا میمون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے شہروں میں طاعون کی وبا پھیلی تو میں نے بذریعہ مکتوب ان کے خاندان کی خیریت دریافت کی حضرتِ سیِّدُنا میمون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے جواب میں لکھا: مجھے آپ کا مکتوب پہنچ گیا ہے، میرے اہل وعیال اور خاص لوگوں میں سے 17کا انتقال ہو چکا ہے، مصیبتوں کا آنا مجھے پسند نہیں اور جب وہ چلی جائیں تب بھی مجھے کوئی خوشی نہیں ہوتی، تم کتابُاللہ کو مضبوطی سے تھامے رکھو کیونکہ لوگوں نے اسے بھلا دیا اور لوگوں کے قصے کہانیوں کو اپنا لیا ہے اور ہاں! دین کے ریاکاروں سے بچتے رہنا۔
کاش! بیٹا مر جائے:
(4864)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: میں اپنے والد صاحب کے ساتھ طوافِ کعبہ کر رہا تھا کہ وہاں ایک بزرگ آئے والد صاحب نے آگے بڑھ کر انہیں گلے لگا لیا ان کے ساتھ میری عمر کا ایک نوجوان بھی تھا، والد صاحب نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: میرا بیٹا ہے۔والد صاحب نے پوچھا: آپ اس سے کتنے راضی ہیں؟ انہوں نے کہا: اے ابو ایوب! میں نے بھلائی کی تمام باتیں اس میں دیکھی ہیں سوائے ایک کے۔ والد محترم نے پوچھا: وہ کیا؟ انہوں نے کہا: میں چاہتا ہوں یہ مر جائے اور پھر اس پر مجھے اجر دیا جائے (یعنی میں صبر کروں اور اجر پاؤں)۔ پھر ہم ان سے جدا ہو ئے تو میں نے عرض کیا: ابا جان! یہ بزرگ کون تھے؟ فرمایا: حضرتِ سیِّدُنا مکحول رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہتھے۔
راہب نے سچ کہا:
(4865)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: ایک راہب حضرتِ سیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزکے پاس آیا توآپ نے اس سے کہا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم ہر وقت روتے رہتے ہو اس کی کیا وجہ ہے؟ راہب بولا:یا امیر المؤمنین!بخدا! میں نے ایسے لوگوں کا دور پایا ہے جو اپنے دین پر