میں گئے اور سلام کیا مگر حاکموں والا سلام نہ کیا اور فرمایا: امیر المؤمنین!آپ یہ نہ سمجھیے گا کہ میں لاعلم ہوں بلکہ خلیفہ کو حاکموں والا سلام اس وقت کیا جاتا ہے جب وہ لوگوں کے فیصلے کرنے کے لیے دربار میں بیٹھاہو۔
دین و دنیا قائم نہیں رہتے:
(4854)…حضرتِ سیِّدُنامیمونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو حضرتِ سیِّدُناعمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنے الجزیرہ کا قاضی مقرر کیا توآپ نے استعفیٰ پیش کر دیا جس میں لکھا تھا: آپ نے میرے ذمے وہ کام لگا دیا ہے جس کی مجھ میں طاقت ہی نہیں، میں نرم دل کمزور بوڑھا ہوں بھلا میں کیسے لوگوں کے درمیان فیصلہ کر سکتا ہوں۔حضرتِ سیِّدُناعمر بن عبدالعزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْزنے جواباً لکھا: جو خراج آسانی سے آجائے لے لو اور جو مقدمہ تمہارے سامنے پیش ہو فیصلہ کر دو اور جب کسی معاملے میں شش وپنج کا شکار ہو تو میری طرف روانہ کر دو کیونکہ لوگوں پر جب کوئی بات شاق گزرتی ہے تو اسے چھوڑ دیتے ہیں پھر نہ دین قائم رہتا ہے نہ دنیا۔
(4855)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: غلام کو ہرغلطی پر سزا دو نہ مارو لیکن اسے یہ باور کروا دو کہ اگر اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی کی تو تم اس نافرمانی پر اسے سزا دوگے اور اسے وہ خطائیں یاد کراؤ جو اس نے تمہارے حق میں کی ہیں ۔
سمجھدار لوگ:
(4856)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں:سمجھدار لوگوں کی کمی نہیں ہے، سمجھدار شخص اس وقت تک اپنے معاملے کی طرف نہیں بڑھتا جب تک وہ لوگوں کو نہ دیکھ لے کہ انہیں کس چیز کا حکم دیا گیا ہےاوروہ کس طرح دنیا پر مرے جارہے ہیں پھر وہ کہتا ہے: یہ سب تو ان اونٹوں کی طرح ہیں جنہیں صرف اپنے پیٹ کی فکر ہوتی ہے، پھر جب ان کی غفلت کو دیکھتااور اپنے بارے میں غور وفکر کرتا ہے تو کہتا ہے:بخدا! ان کا شر دیکھ کر میں خود کو بھی ایک اونٹ ہی سمجھتا ہوں۔
مومن کا دل مثل ِآئینہ ہے:
(4857)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: بندہ جب ایک گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے اگر وہ توبہ کر لے تو مٹا دیا جاتا ہے، مومن کا دل تو آئینے کی طرح صاف