Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
117 - 475
(4848)…حضرتِ سیِّدُنا میمونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ذکر تو دو ہی ہیں: ایک زبان سے اللہکاذکر کرنا اور دوسرا اس سے بھی افضل کہ جب بندہ گناہ کرنے لگے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّکو یاد کر لے(تاکہ بچ جائے)۔
تین باتوں میں سب برابر:
(4849)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: تین باتوں میں مسلمان اور کافر برابر ہیں: (۱)…امانت رکھوانے والے کو اس کی امانت واپس کرنا چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر(۲)… والدین سے حسن سلوک کرنا کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: وَ اِنۡ جَاہَدَاکَ عَلٰۤی اَنۡ تُشْرِکَ بِیۡ مَا لَیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ ۙ فَلَا تُطِعْہُمَا وَصَاحِبْہُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوۡفًا ۫(پ۲۱،لقمٰن:۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اگر وہ دونوں تجھ سے کوشش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے۔
(۳)…وعدہ وفا کرنا چاہے مسلمان سے کیا ہو یا کافر سے۔
(4850)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: اگر ہم کرائے کے گدھوں (نفسانی خواہشات) پر سوار نہ ہوتے تو ضرور آل فلاں اور آل شام کو سلام کرتے۔
(4851)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: میں نے ایسے شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے اپنے ربّ عَزَّ  وَجَلَّکے خوف کی وجہ سے اپنی آنکھیں کبھی آسمان کی طرف نہیں اٹھائیں۔
(4852)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: حجاج بن یوسف نے حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکو بلوایا، حجاج آپ کے بارے میں کوئی ارادہ کر چکا تھاچنانچہ جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہتشریف لائے تو حجاج کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا: اے حجاج! تمہارے اور آدم عَلَیْہِ السَّلَامکے درمیان کتنے آباء واجداد تھے؟ حجاج بولا: بہت زیادہ۔ آپ نے فرمایا: وہ سب کہاں ہیں؟ حجاج نے کہا: مر گئے۔ اتنا کہہ کر حجاج نے اپنا سر جھکا لیا اور حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیتشریف لے گئے۔ 
حاکموں والا سلام:
(4853)…حضرتِ سیِّدُنا میمونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سلیمان بن عبد الملک یا ہشام میں سے کسی ایک کے گھر