Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
116 - 475
خون بھی رائیگاں جائے:
(4844)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: سب سے پہلا شخص جو خود سوار تھا اور لوگ اس کے ساتھ پیدل چل رہے تھے وہ حضرت اَشعث بن قیس کِنْدیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے، میں نے صحابہ کا دور پایا ہے وہ جب ایک شخص کو سوار اورایک کو اس کے ساتھ پیدل دیکھتے تو فرماتے: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے ایسی ہلاکت دے کہ اس کا خون بھی رائیگاں جائے۔
(4845)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: مجھے اتنا بھی پسند نہیں کہ ’’بابِ رَھا‘‘سے ’’حَران‘‘ تک کی جگہ پانچ درہم  میں مجھے مل جائے۔
	مزید فرماتے ہیں: ایک بزرگ نے فرمایا: اپنے گھر میں بیٹھ جا، دروازہ بند کر دے پھر دیکھ کہ کیا تیرا رزق تیرے پاس آئے گا؟ ہاں خدا کی قسم! ایسا کرنے والے کو حضرتِ سیِّدَتُنا مریم اورحضرتِ سیِّدُناابراہیم عَلَیْہِمَا السَّلَام کے یقین کی طرح یقین ہو اوروہ  اپنا دروازہ بند کر کے پردے گرا دے (تو  رزق ضرور آئے گا)۔ حضرتِ سیِّدُنامیمون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہمزید فرماتے ہیں: ہم میں سے ہر شخص کمائی کی کوشش کرے اور صرف حلال کمائے پھر مالی واجبات زکوٰۃ وغیرہ ادا کرے تو نہ وہ مالداروں کا محتاج  ہو گا نہ فقرا کو کوئی حاجت رہے گی۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکا فرمان ہے:   اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجْرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۱۰﴾          (پ۲۳،الزمر:۱۰)	
ترجمۂ کنز الایمان: صابروں ہی کو ان کا ثواب بھرپور دیا جائے گا بے گنتی۔
	اس کی تفسیر میں حضرتِ سیِّدُنا میمونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:  یعنی جنت کے بالا خانے۔
(4846)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: اے نوجوانوں! اپنی جوانی اور چستی میں اپنی قوت وطاقت کو اطاعتِ الٰہی میں صَرف کرواور اے بوڑھو! اب کس چیز کا انتظار ہے؟
زندگی کا ایک درہم:
(4847)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: : مجھے اپنی زندگی میں ایک درہم صدقہ کرنا اس سے زیادہ پسند ہے کہ میرے مرنے کے بعد کوئی میری طرف سے سو درہم صدقہ کرے۔