رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے ملا تو میں نہ کہا:حَیَّاکَ اللّٰہُ یعنی:اللہ عَزَّ وَجَلَّآپ کی عمر دراز کرے۔ تو انہوں نے فرمایا: یہ تو جوانوں کا سلام ہے ، تم لفظِ سلام کے ساتھ سلام کیا کرو۔
نوکری میں بھلائی نہیں:
(4839)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: میں پسند کرتا ہوں کہ میری ایک آنکھ کی بینائی چلی جائے اور ایک کی ٹھیک رہے جس سے میں فائدہ اٹھاؤں لیکن میں کسی کی نوکری نہ کروں، کہا گیا: خلیفَۂ وقت حضرتِ عمر بن عبد العزیز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْعَزِیْز کی بھی نہیں؟آپ نے فرمایا: ہاں، عمر بن عبدالعزیز کی بھی نہیں، نوکری میں کوئی بھلائی نہیں چاہے عمر بن عبد العزیز کی ہو یا کسی اور کی۔
(4840)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: میں نے جب بھی اپنے قول کو اپنے فعل پر پیش کیا تو ضمیر کو اعتراض کرنے والا ہی پایا۔
خیر خواہ کون؟
(4841)…حضرتِ سیِّدُنا جعفر بن بُرْقان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکہتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنامیمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان نے مجھ سے فرمایا: اے جعفر! میری بری بات میرے سامنے کہو کیونکہ کوئی بھی شخص اپنے بھائی کا خیر خواہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک اس کی برائی اسے نہ بتائے۔
(4842)… اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمان ہے: خَافِضَۃٌ رَّافِعَۃٌ ۙ﴿۳﴾ (پ۲۷،الواقعة:۳)
ترجمۂ کنز الایمان: کسی کو پست کرنے والی کسی کو بلندی دینے والی۔
اس کی تفسیر کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں:(قیامت)بہتوں کو پست کرے گی اور بہتوں کو بلند کرے گی۔
مالداروں کا لباس:
(4843)… حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکے ایک دوست کہتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کے ساتھ جارہا تھا اور اس وقت مجھ پر کتان(اَلسی)کا لباس تھا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھ سے فرمایا: کیا تمہیں نہیں معلوم کہ کتان یا تو مالدار پہنتے ہیں یا پھر شہرت پسند لوگ۔