Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
114 - 475
 کان اُدھر مت لگانا کیونکہ تم نہیں جانتے کہ ان کی کون سی بات تمہارے دل سے چپک جائے۔
(4833)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: بادشاہ کو اپنا تعارف نہ کراؤ اور نہ اسے جو بادشاہ سے تعارف کروائے۔
(4834)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں:موجودہ زمانے میں مجھے اپنا قومی خزانے  پر  امین مقرر کیا جانا عورت پر امین مقرر کیے جانے سے زیادہ پسند ہے۔
جب اپنے متعلق برائی سنیں تو کیا کریں؟
(4835)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں:  مجھے جب بھی  کسی شخص کی طرف  سے کوئی ناپسندیدہ بات پہنچی تو میں نے اس کی چھان بین کرنے کے بجائے اسی سے پوچھنا زیادہ مناسب جانا، اگر اس نے کہہ دیا کہ’’میں نے ایسا نہیں کہا‘‘ تو اس کا یہ کہنامجھے اس کے خلاف آٹھ گواہوں سے زیادہ اچھا لگا اور اگر کہا کہ ’’میں نے ایسا کہا ہے‘‘اور پھر معذرت بھی نہ کی تو جتنا وہ مجھے اچھا لگتا تھا اتنا ہی برا لگنے لگا۔ میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو فرماتے سنا:  جب بھی مجھے میرے کسی بھائی کی طرف سے کوئی ناپسندیدہ بات پہنچی تو میں نے اسے تین مراتب پر رکھا: اگر وہ مجھ سے بڑا ہے تو میں نے اس کی قدر ومنزلت پہچان لی، اگر میرے برابر کا ہے تو اس پر مہربانی کی اور اگر چھوٹا ہے تو پروا ہی نہیں کی،میرا یہ طریقہ اپنے لیے ہے جو اس سے ہٹ کر چلنا چاہے تو بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی زمین بہت بڑی ہے۔
(4836)…حضرتِ سیِّدُنا اَبان بن ابو راشد قُشَیْرِیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں جب میں سفر پر جانے کا ارادہ کرتا تو الوداع کہنے کے لیے پہلے حضرتِ سیِّدُنا  میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانکے پاس آتا آپ  مجھے دو ہی جملے فرماتے ہیں:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرتے رہنا اور لالچ اور غصہ تمہیں بدلنے  نہ پائیں۔
علما کی محفل اختیار کرو:
(4837)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: علما ہر شہر میں میرا گمشدہ  مال اور میرا مقصود ہیں، میں علما کی محفل میں اپنے دل کی اصلاح پاتا ہوں۔
(4838)…حضرتِ سیِّدُنا ابو سُوقہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ