Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
111 - 475
تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: میں والد صاحب کو لے کر بصرہ کی ایک گلی میں گیا تو وہاں پر ایک پانی کا نالہ بہہ رہا تھا والد صاحب اس کو پار نہ کر سکے لہٰذا میں اس پر الٹا لیٹ گیا اور والد صاحب میری پیٹھ پر قدم رکھ کےپار ہو گئے پھر میں اٹھا ان کا ہاتھ پکڑا اور ہم حضرت حسنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے گھر کی طرف چل پڑے وہاں پہنچ کر میں نے ان کا دروازہ بجایا تو اندر سے ایک کنیز آئی اور پوچھا یہ کون ہے؟ میں نے کہا: یہ حضرت میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان ہیں حضرتِ سیِّدُناحسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے ملنا چاہتے ہیں۔ وہ بولی: وہی میمون بن مہران جوعمر بن عبدالعزیز کے قلمدان تھے؟ میں نے کہا: ہاں۔ وہ بولی: ارے او بدنصیب! اس برے زمانے تک کیوں زندہ ہے۔یہ سن کر آپ رونے لگے تو حضرتِ سیِّدُنا حسنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہان کی آواز سن کر باہر آگئے دونوں گلے ملےپھراندرچلےگئے،حضرتِ سیِّدُنامیمون بن مہرانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاننےکہا:اےابوسعید!میرےدل میں سختی آگئی ہےاسے نرم کرو۔چنانچہ حضرتِ سیِّدُناحسنرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے پڑھی اور یہ آیتِ مبارَکہ تلاوت کی:
اَفَرَءَیۡتَ اِنۡ مَّتَّعْنٰہُمْ سِنِیۡنَ ﴿۲۰۵﴾ۙ ثُمَّ جَآءَہُمۡ مَّا کَانُوۡا یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۲۰۶﴾ۙمَاۤ اَغْنٰی عَنْہُمۡ مَّا کَانُوۡا یُمَتَّعُوۡنَ ﴿۲۰۷﴾ؕ   (پ۱۹، الشعرآء:۲۰۵ تا ۲۰۷)	
ترجمۂ کنز الایمان: بھلا دیکھو تو اگر کچھ برس ہم انہیں برتنے دیں پھر آئے اُن پر وہ جس کا وہ وعدہ دیئے جاتے ہیں تو کیا کام آئے گا اُن کے وہ جو برتتے تھے۔
	میں نے دیکھا کہ والد صاحب گر پڑے اور ذبح ہونے والی بکری کی طرح  کافی دیر تک ایڑیاں رگڑتے رہے پھر افاقہ ہوا تو وہ کنیز آئی اور بولی: آپ لوگوں نے ان بزرگ کو تھکا دیا ہے لہٰذا اب اٹھو اور چلے جاؤ، میں نے والد صاحب کا ہاتھ پکڑا اور ان کو لے کر باہر نکل آیا، پھر میں نے عرض کی: ابا حضور! یہ ہیں حسن میں تو ان کو بہت بڑا بزرگ سمجھتا تھا۔ ابا حضور نے میرے سینے پر ایک گھونسا مارا اور فرمایا:  بیٹا! اگر تو نے اس آیت کو دل سے سمجھا ہوتا تو اس کی چوٹ ابھی تک تیرے دل میں باقی رہتی۔
فضول خرچی سے بچو:
(4821)…حضرتِ سیِّدُنا میمون بن مہران عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّانفرماتے ہیں: مجھے یہ ہرگز پسند نہیں کہ میں کھیل کود میں ایک درہم خرچ کروں اور اس کے بدلے مجھے ایک ہزار ملیں، جو ایسا کرے مجھے اس پر اس آیت کا خوف ہے: