ہی پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نماز جنازہ ادا کی (یعنی درود پڑھتے رہے)ہم میں سے کوئی بھی (امامت کے لیے) آگے نہیں بڑھا۔حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰی،حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عباس اورحضرتِ سیِّدُنا ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ قبرانور میں داخل ہوئے اور یوں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تدفین عمل میں آئی۔ جب لوگ واپس پلٹے تو حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ زَہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانےحضرتِ سیِّدُنا علیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے کہا: اے حسن کے بابا! آپ نے رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دفنا دیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا شدتِ غم میں ڈوبے ہوئےکہنے لگیں: آپ لوگوں نے رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر مٹی ڈالنا کیسے گوارا کر لیا؟ کیا آپ لوگوں کے دلوں میں حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے کوئی مہربانی نہیں آئی؟ کیا وہ بھلائی کی باتیں سکھانے والے نہ تھے؟ حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے تسلی دیتے ہوئے کہا: اے فاطمہ! کیوں نہیں، لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا فیصلہ اٹل ہے اسے کون ٹال سکتا ہے۔ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا رونے لگیں اور کہنے لگیں: بابا جان! وہ جبریل جو آسمان سے آپ کے پاس وحی لایا کرتے تھے آج تو ہم ان کے آنے جانے سے بھی محروم ہو گئے۔(1)
تصویریں مٹا دیں:
(4807)…حضرتِ سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو وادی بطحا میں حکم دیا کہ جاؤ اور کعبہ میں جتنی تصویریں ہیں سب کو مٹا دو۔چنانچہ جب تمام تصویریں مٹا دی گئیں تو پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کعبۃ اللہ شریف میں داخل ہوئے۔(2)
منافق کی موت:
(4808)…حضرتِ سیِّدُناجابربنعبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ روایت کرتے ہیں کہ ہم مکہ و مدینہ کے درمیان جہاد میں مشغول تھے کہ اتنے میں شدید آندھی چلی جس نے لوگوں کو ریت میں دھنسا دیا، اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…معجم کبیر،۳/ ۵۸ ،حدیث ۲۶۷۶ ،بتغیر قلیل
2… دلائل النبوة للبیھقی،باب دخول النبی مكة ...الخ، ۵/ ۷۳ حدیث: ۲۳