Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
104 - 475
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتواپنی ذات میں مشغول ہیں( یعنی شدید بیمار ہیں)۔ حضرتِ سیِّدُنا ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَامنے دوبارہ ندا دی تو سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانےکہا:فاطمہ!اس شخص کوجواب دیں۔چنانچہ سیِّدَہ فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانےفرمایا:اےاللہ کےبندے!تیراآناسبب رحمت ہواوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ تجھےاجردےحضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتواپنی ذات میں مشغول ہیں۔ حضرتِ سیِّدُنا ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام نے تیسری مرتبہ کہا: اے  نبوت کے گھر، رسالت  کا سرچشمہ اور فرشتوں کے میزبانو! تم پر سلام ہو، کیا میں اندر آجاؤں؟ میرا اندر آنا ضروری ہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےملک الموتعَلَیْہِ السَّلَامکی آوازسن لی اورفرمایا:فاطمہ دروازےپر کون ہے؟عرض کی: یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کوئی شخص ہے جو اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے ہم نے اسے دو بار جواب بھی دیا ہے لیکن جب اس نے تیسری مرتبہ ندا دی تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور سانسیں پھول گئیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: فاطمہ! جانتی ہو دروازے پر کون  ہے؟یہ لذتوں کو گرانے والا، جماعتوں کو توڑنے والا،میاں بیوی میں جدائی ڈالنے والا، اولاد کو یتیم کرنے والا، گھروں کو ویران اور قبرستان کو آباد کرنے والا موت کا فرشتہ ہے، اے ملک الموت!اللہ عَزَّ  وَجَلَّآپ پر رحم فرمائے آجاؤ۔چنانچہ
	حضرتِ سیِّدُنا ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَامبارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اے ملکوت الموت! دیدار کرنے آئے ہو یا روح قبض کرنے؟ عرض کی: دیدار کرنے بھی اور روح لے جانے بھی، مجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے حکم دیا ہے کہ آپ کی اجازت کے بغیر اندر داخل نہ ہوں اگر آپ اجازت دے دیں تو ٹھیک ورنہ میں واپس ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں لوٹ جاؤں۔ارشاد فرمایا: اے ملک الموت میرے دوست جبریل کو کہاں چھوڑ آئےہو؟ عرض کی: میں ان کو آسمانِ دنیا میں چھوڑ آیا ہوں وہاں ملائکہ ان سے آپ کے معاملے میں تعزیت کر رہے ہیں۔ ایک لمحہ بھی نہ گزرا تھا کہ حضرتِ سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَامآئے اور آپ کے سرہانے بیٹھ گئے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اے جبریل! یہ وقت دنیا سے رخصتی کا ہے ذرا مجھے ان انعامات کی خوشخبری تو سناؤ جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں میرے لیے ہیں۔حضرتِ سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: یا حبیبَ اللہ! آپ کو خوشخبری ہو میں اس حال میں آیا ہوں کہ تمام آسمانوں کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں، فرشتے صفیں بنا کر پھولوں اور سلاموں کے نذرانے لیے خوش آمدید کہنے کھڑے ہیں اور آپ کی روحِ پرنور پر سلام بھیج رہے ہیں۔آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا: تمام تعریفیں میرے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ کے وجہ کریم کے لیے ہیں۔ اے جبریل!اور خوشخبری دو۔ حضرتِ جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی: آپ کو خوشخبری ہو کہ جنتوں کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں، اس کی نہریں جھل تھل کر رہی ہیں، درخت  جھلملا رہے ہیں اور اس  کی حوریں سج