لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرتِ بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دونوں ہاتھ سر پر رکھے واپس مڑے اور یہ کہتے جاتے: ہائے اللہمدد فرما، میری امید ٹوٹ گئی، میری کمر ٹوٹ گئی، کاش! میری ماں نے مجھے جنا ہی نہ ہوتا، اگر میں پیدا ہو بھی گیا تھا تو کاش! مجھے یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا، پھر کہنے لگے: اے ابوبکر سنتے ہو! حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حکم دیا ہے کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بہت نرم دل تھے آگے بڑھےتو آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جگہ کو خالی پا کر برداشت نہ کر سکے اور بے ہوش ہو کر گر پڑے، مسلمانوں کی چیخیں نکل گئیں، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ چیخ وپکار سنی تو ارشاد فرمایا: یہ کیسی چیخ وپکار ہے؟ عرض کی گئی: یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کو نہ پاکر صحابہ کی چیخیں نکل گئی ہیں۔ چنانچہ
آپ نے حضرتِ علی اور حضرتِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو بلایا اور ان کے سہارے تشریف لے جا کر دو مختصر رکعتیں پڑھائیں پھر اپنا نور برساتا رخ روشن حضراتِ صحابَۂ کرام کی طرف پھیرا اور ارشاد فرمایا: میں تمہیں سپردِ خدا کرتا ہوں تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےامید اور اس کی امان میں ہو۔ میرے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہارا نگہبان ہے، اے مسلمانو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرنا اور میرے بعد اس کی اطاعت کرناتم پر لازم ہے، میں دنیا سے پردہ کرنے والا ہوں، یہ دن آخرت کاپہلااوردنیاکاآخری ہو گا۔ پھرجب پیر کادن آیا توبیماری شدت اختیار کر گئی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ملک الموتعَلَیْہِ السَّلَامکوحکم دیاکہ نیچےاترومیرےحبیب حضرت محمدمصطفٰے،احمدمجتبیٰ(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کےپاس سب سےاچھی صورت میں حاضری دواوران کی روح قبض کرنےمیں سب سےزیادہ آسانی کرنا۔ چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ملک الموت عَلَیْہِ السَّلَام نیچے اترے اور ایک اعرابی کی صورت میں دروازے پر کھڑے ہو کر کہا: اے نبوت کے گھر، رسالت کاسرچشمہ اور فرشتوں کے میزبانو! تم پر سلام ہو، کیا میں اندر آجاؤں؟ سیِّدَتُنا عائشہ صدّیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانےسیِّدَہ فاطمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسےکہا:اس شخص کوجواب دیں۔آپ نےفرمایا:اےاللہ کےبندے!تیراآناسبب رحمت ہواوراللہ عَزَّ وَجَلَّ تجھےاجردےحضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ