چیخیں نکل گئیں اور کہنے لگے: ارے! عکاشہ کو دیکھتے ہو یہ رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک پیٹ پر مارے گا؟ جب حضرتِ سیِّدُناعکاشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مبارک پیٹ کی سفیدی کو دیکھا گویا مصری کی ڈلی ہو تو فوراً حضور عَلَیْہِ السَّلَام سے چمٹ گئے اور بطن مبارک کا بوسہ لیتے ہوئے عرض گزار ہوئے: میرے ماں باپ آپ پر قربان! بھلا کون ہے جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بدلہ لینے کا سوچ سکے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: چاہو تو بدلہ لے لو اور چاہو تو معاف کردو۔حضرتِ سیِّدُناعکاشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےعرض کی:میں نےآپ کومعاف کیایہ امیدکرتے ہوئے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّروزقیامت مجھےمعاف فرمائےگا۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:جوشخص میرے جنت کے رفیق کو دیکھنا چاہے وہ اس بوڑھے کو دیکھ لے۔ پس لوگ کھڑے ہوئے اور حضرتِ سیِّدُنا عکاشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی پیشانی چومنے لگے اور یہ کہتے جاتے: تمہیں مبارک ہو! تمہیں مبارک ہو! تم توبلند درجات اورحضورنبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہم نشینی کےشرف کوپہنچ گئے۔آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس دن سے اٹھارہ دن تک بیمار رہے اور لوگ آپ کی عیادت کے لیے حاضر ہوتے رہے۔
رفیق اعلیٰ کی طرف سفر:
آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپیر کے دن پیدا ہوئے، پیر کے دن اعلان نبوت کیا اور پیر ہی کے دن وصال فرمایا، جب اتوار کا دن آیا تو آپ کا مرض شدت اختیار کر گیا۔ آپ نے حضرتِ سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اذان کا حکم دیا وہ اذان دینے کے بعد دروازے پر کھڑے ہو کر کہنے لگے: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے،نماز! پیارے آقا نے اپنے غلام کی آواز سن لی لیکن حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: اے بلال! حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شدیدبیمار ہیں۔ حضرتِ سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمسجد میں چلےگئے جب صبح کی سفیدی پھوٹنے لگی تو حضرتِ سیِّدُنا بلالرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا:اللہکی قسم! جب تک میرے آقاحکم نہ فرما دیں میں نماز نہیں پڑھوں گا، چنانچہ دوبارہ درِدولت پر حاضر ہو کر عرض کی: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَرَحْمَةُ اللّٰہِ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے،نماز! آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے غلام کی صدا سن کر ارشاد فرمایا: اے بلال! اللہکے رسول شدید بیمار ہیں، مسجد جاؤ اور ابوبکر کو حکم دو کہ