اور آج اپنی طرف سے بدلہ دے رہے ہیں۔ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے فرمایا: اے بلال! آخر ایسا کون ہے جس نے رسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بدلہ لینا گوارا کر لیا؟ اے بلال! اگر یہ بات ہے تو حسن اورحسین کو کہواس شخص کے سامنے کھڑے ہو جائیں اور وہ ان سے بدلہ لے لے وہ دنوں اسےحضور سے بدلہ لینے سے باز رکھیں گے۔ چنانچہ
حضرتِ سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمسجد پہنچے اور وہ چھڑی حضور نبی پاک، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو پیش کر دی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہ عکاشہ کے حوالے کر دی، یہ دیکھ کر حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر وعمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاآگے بڑھے اور کہا: اے عکاشہ! لو ہم تمہارے سامنے ہیں جو انتقام لینا ہے ہم سے لے لو پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے بدلہ نہ لو۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: اے ابوبکر! ہٹ جاؤ اور اے عمر! تم بھی ہٹ جاؤ یقیناً اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم دونوں کے مقام ومرتبہ کو خوب جانتا ہے۔ اتنے میں حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے عکاشہ! میرے سامنے میری زندگی میں تم پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ چھڑی مارو مجھے یہ ہرگز برداشت نہیں، یہ رہی میری پیٹھ اور یہ رہا میرا پیٹ اپنے ہاتھ سے مجھے سو کوڑے مارلو اور مجھ سے انتقام لے لو لیکن پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بدلہ نہ لینا،آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اے علی! اپنی جگہ بیٹھ جاؤ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہارے مرتبے اور نیت کو خوب جانتا ہے۔ اتنے میں نوجوانانِ جنت کے سردار حضرتِ سیِّدُناامام حسن وامام حسینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی َنْہُمَاکھڑےہوئےاورکہنےلگے:اےعکاشہ!کیاتم نہیں جانتے کہ ہمرسولُاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےنواسےہیں اورہم سےبدلہ لیناگویاآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سےبدلہ لینا ہےلہٰذا ہم سےبدلہ لو۔پیارےآقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا: اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک! بیٹھ جاؤ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّتمہارے اس مقام کو خوب جانتا ہے۔پھر حضرتِ سیِّدُناعکاشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو فرمایا:اے عکاشہ! اگر تم مارنا چاہتے ہو تو مارو۔
حضرتِ عکاشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: جس وقت آپ نے مجھے مارا تھا اس وقت میرے پیٹ پر کپڑا نہیں تھا۔چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے پیٹ مبارک سے کپڑا ہٹا دیا، یہ دیکھ کر مسلمانوں کی