Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:4)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
100 - 475
 راستے کی طرف دعوت دی، اللہ عَزَّ  وَجَلَّآپ کو اس سے افضل جزا عطا فرمائے جو کسی امت کی طرف سے اس نے کسی نبی کو دی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے ارشاد فرمایا: اے گروۂ مسلمین! میں تمہیں  اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی قسم اور تم پر اپنےحق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں: میری طرف سے کسی پر کوئی زیادتی ہو گئی ہو تو کھڑا ہو جائے اور قیامت میں بدلہ لینے کے بجائے مجھ سے یہیں بدلہ لے لے۔ کوئی ایک بھی کھڑا نہ ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دوبارہ یہی قسم دی پھر بھی کوئی کھڑا نہ ہوا توتیسری بار قسم دیتے ہوئےاس بات کو دہرایاکہ میری طرف سے کسی پر کوئی زیادتی ہو گئی ہو تو کھڑا ہوجائے اور قیامت میں بدلہ لینے کے بجائے  مجھ سےیہیں بدلہ لے لے۔ چنانچہ عکاشہ نامی ایک ضعیف العمر شخص کھڑے ہوئے اور لوگوں کو ہٹاتے ہوئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامنے جا پہنچے اور عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان! اگر آپ نے باربار قسم نہ دی ہوتی تو میری مجال ہی نہیں تھی کہ میں کسی چیز کے بدلے کے لیے آپ کے سامنےآتا۔ میں آپ کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا اس میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اپنے نبی عَلَیْہِ السَّلَام کی مدد کی اور ہمیں فتح عطا فرمائی۔ جب ہم واپس آرہے تھے تو میری اونٹنی آپ کی اونٹنی کے برابر آگئی، میں اپنی اونٹنی سے اتر کر آپ کے قریب ہوا تاکہ آپ کےقدم مبارک پر بوسہ دوں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےچھڑی بلند کی اور میرے پہلو پر ماری، میں نہیں جانتا کہ آپ نے ایسا جان بوجھ کر کیا یا آپ کا ارادہ اونٹنی کو مارنے کا تھا؟ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: میں تمہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے جلال سے پناہ میں لیتا کہ اللہکا رسول تمہیں جان بوجھ کر مارے۔ اے بلال! فاطمہ کے گھر جاؤ اور وہی پتلی چھڑی لے آؤ۔ چنانچہ 
	حضرتِ سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے ہاتھ سر پر رکھے مسجد سے نکلے اور یہ کہتے جاتے:یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے رسول ہیں جو خود اپنا قصاص دے رہے ہیں۔حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے گھر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا: اے رسولُاللہکی صاحبزادی! مجھے وہ پتلی چھڑی دے دو۔حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: بلال نہ ہی آج یوم عرفہ ہے اور نہ ہی کوئی غزوہ پھر میرے باباجان چھڑی کا کیا کریں  گے؟ حضرتِ سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ عرض کرنے لگے: کیا آپ کو معلوم نہیں آج آپ کے باباجان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیاکر رہے رہیں!بے شک حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دین پہنچا دیا ہے، دنیا کو چھوڑ رہے ہیں