دن زندہ رہیں۔ (۱)
ایک بہت بڑا جھوٹا اور ایک ظالم:
(1504)…حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنت ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اپنی چند باندیوں کے ہمراہ تشریف لائیں اس وقت ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی۔ پوچھا: ’’حَجَّاج کہاں ہے؟‘‘ ہم نے کہا: ’’وہ یہاں نہیں ہے۔‘‘ فرمایا: ’’اسے کہنا وہ ان ہڈیوں کو ہمارے حوالے کردے کیونکہ میں نے سنا ہے کہ ’’حضور نبی ٔکریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مُثْلَہ کرنے (یعنی ہاتھ، پاؤں، ناک، کان وغیرہ کاٹنے) سے منع فرمایا ہے۔‘‘ ہم نے کہا: ’’وہ آئے گا تو ہم اسے بتا دیں گے۔‘‘ فرمایا: وہ آئے تو اسے یہ بھی بتادینا کہ ’’میں نے پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ’’بے شک قبیلہ ثقیف میںایک بہت بڑا جھوٹا اور ایک ظالم ہوگا (۲)۔‘‘ (۳)
حضرتِ سیِّدَتُنا رُمَیْصَاء اُم سُلَیْمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
حضرتِ سیِّدَتُنا رُمَیْصَاء اُم سُلَـیْم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی ان صحابیات میں سے ہیں جنہوں نے پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہر حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا۔ نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بہت سی جنگوں اور غزوات میں مسلمانوں کی طرف سے نیزہ زنی کی۔
علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: آرام طلبی وخواہشات کو ترک کرنے اور مصائب و آلام پر صبر کرنے کا نام تصوُّف ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الامرائ، الحدیث:۱۴۲، ج۷، ص۲۷۳۔
2…حضرتِ سیِّدُنا امام یحییٰ بن شرف نووی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی شرح مسلم میں فرماتے ہیں کہ کَذَّاب سے مراد مختار ثقفی ہے جوکہ بہت بڑا جھوٹا تھا اس کی سب سے بڑی برائی یہ تھی کہ وہ اس بات کا دعویٰ کرتا تھا کہ میرے پاس حضرتِ جبرائیل عَلَـیْہِ السَّلَام آتے ہیں اور علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کا اس بات پر اجماع ہے کہ حدیث مبارَکہ میں کَذَّاب سے مختار بن ابوعبیدہ ثقفی اور مُبِیْر (یعنی ظالم) سے حَجَّاج بن یوسف مراد ہے۔ (شرح المسلم للنووی، کتاب الفضائل، باب ذکرکذاب ثقیف ومبیرہا، ج۸، جز۱۶، ص۱۰۰)
3… المعجم الکبیر، الحدیث:۲۷۱، ج۲۴، ص۱۰۰۔
المستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب اھانۃ الحجاج…الخ، الحدیث:۶۳۹۸، ج۴، ص۷۱۶، ملتقطًا۔