Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
98 - 603
کے پاس گیا ان دنوں آپ بیمار تھیں۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پوچھا: ’’آپ خود کو کیسا پاتی ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’کافی تکلیف میں مبتلا ہوں۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن زبیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: ’’بے شک موت میں عافیت ہے۔‘‘ انہوں نے فرمایا: ’’شاید تم چاہتے ہوکہ میں مرجاؤںاسی لئے اس کی تمنا کر رہے ہو ایسا نہ کرو۔‘‘ پھر حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن زبیررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کی طرف متوجہ ہوکر ہنس پڑیں اور فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں اس وقت تک موت کی متمنی نہیں ہوں جب تک تمہارا کچھ نہ کچھ فیصلہ نہ ہوجائے یعنی یا تو تمہیں شہید کردیا جائے تو میں تمہیں باعث ثواب سمجھوں گی یا فتح حاصل ہوجائے تو تم سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ اس بات سے بچنا کہ اگر تم پر جاگیریں پیش کی جائیں تو ہرگز موافقت نہ کرنا کہیں ایسا نہ ہو کہ موت کے خوف سے انہیں قبول کرلو۔‘‘
	(راوی بیان کرتے ہیں کہ) حضرتِ سیِّدُنا ابن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے (موت کو عافیت کہہ کر) اس بات سے کنایہ لیا تھا کہ انہیں قتل کردیا جائے گا اور یہ خبر حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو غمزدہ کرے گی کیونکہ اس وقت ان کی عمر 100سال تھی۔   (۱)
سیِّدَتُنااسماء رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کاصبر:
(1503)…حضرتِ سیِّدُنا ایوب عبداللّٰہ بن ابی مُلَیکہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے صاحبزادے حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت کے بعد میں ان کے پاس آیا تو انہوںنے فرمایا: ’’مجھے خبر ملی ہے کہ دشمنوں نے عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو الٹا سولی پر لٹکا دیا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ مجھے اس وقت تک موت نہ آئے جب تک عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو میرے حوالے نہ کردیا جائے۔ انہیں غسل دیا جائے۔ خوشبو لگا کر کفن پہنایا جائے اور پھر دفن کردیا جائے۔‘‘ کچھ ہی دیر بعد عبدالملک کا خط آیا کہ عبداللّٰہ کی لاش ان کے گھروالوں کے سپرد کردی جائے۔ چنانچہ، انہیں حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس لایا گیا پھر غسل دے کر پاک وصاف کرکے خوشبو لگا کر دفن کردیا گیا۔ حضرتِ سیِّدُنا ایوب عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَدُوْد بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دفنانے کے بعد صرف تین
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الامراء، الحدیث:۱۴۳، ج۷، ص۲۷۳۔
	الادب المفرد، باب ہل یکون قول المریض’’انی وجع‘‘شکایۃ ؟، الحدیث:۵۱۸، ص۶۹۰۔