Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
97 - 603
(1501)…حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنت ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتی ہیں کہ جب حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ منورہ زَادَہَا اللَّہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا کی طرف ہجرت کے لئے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہمراہ نکلے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنا سارا مال ساتھ لے لیا جو پانچ یا چھ ہزار درہموں پر مشتمل تھا۔ جب تمام مال لے کر تشریف لے گئے تو میرے دادا حضرتِ سیِّدُنا ابوقحافہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ہمارے پاس آئے اس وقت وہ نابینا تھے۔ انہوں نے کہا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میرا خیال ہے کہ ابوبکر نے اپنے آپ اور اپنے مال سے تمہیں محروم کردیا ہے؟‘‘ میں نے کہا: ’’نہیں! اے دادا جان! (ایسی بات نہیں) وہ ہماے لئے کافی مال چھوڑ گئے ہیں۔‘‘ چنانچہ،میں نے کچھ پتھر لئے اور انہیں کمرے میں موجود روشندان میں جہاں والد ِمحترم مال رکھا کرتے تھے رکھ کر ان پر کپڑا ڈال دیا اور دادا جان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ’’دادا جان! اپنا ہاتھ اس مال پر رکھ کر دیکھیں۔‘‘ انہوں نے اس پر ہاتھ رکھا اور کہا: ’’کوئی بات نہیں اگر وہ تمہارے لئے اتنا مال چھوڑ گئے ہیں تو بہت اچھا کیا کہ اس سے تمہارا گزارہ ہوسکتا ہے۔‘‘ فرماتی ہیں: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! والد ِمحترم نے ہمارے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا لیکن میں نے یہ حیلہ صرف دادا کو تسلی دینے کے لئے کیا تھا۔‘‘
	حضرتِ سیِّدُنا ابن اسحاق عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّزَّاق حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت کرتے ہیں کہ جب سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تشریف لے گئے تو قریش کا ایک گروہ ہمارے پاس آیا ان میں ابوجہل بھی تھا۔ وہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مکان کے دروازے پر آکر کھڑے ہوگئے۔ میں ان کے پاس گئی تو انہوں نے پوچھا: ’’اے ابوبکر کی بیٹی! تیرے والد کہاں ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’بخدا! مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں۔‘‘ فرماتی ہیں: ’’خبیث انسان ابوجہل نے میرے منہ پر اس زور کا تھپڑ مارا کہ میرے کان کی بالی گرگئی، پھر وہ لوگ واپس لوٹ گئے۔‘‘  (۱)
موت میں عافیت ہے:
(1502)…حضرتِ سیِّدُنا ہشام بن عروہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہادت سے دس دن پہلے میں ان کے ساتھ حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کنزالعمال،کتاب الہجرتین، الحدیث:۳۶۳۰۹، ج۱۶، ص۲۹۰۔