حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنت ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا
حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنت ِ ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی صحابیات میں سے ہیں۔ آپ ہمیشہ سچ بولنے والی، کثرت سے ذِکْرُاللّٰہ کرنے والی اور صابرہ وشاکرہ خاتون تھیں۔
عذابِ الٰہی سے پناہ:
(1499)…حضرتِ سیِّدُنا ہشام بن عروہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے والد ِمحترم فرماتے ہیں کہ ’’میں حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نماز ادا فرما رہی تھیں۔ میں نے آپ کو یہ آیت ِ مقدسہ تلاوت کرتے سنا:
فَمَنَّ اللہُ عَلَیۡنَا وَ وَقٰىنَا عَذَابَ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾ (پ۲۷، الطور:۲۷)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اللّٰہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں لُو کے عذاب سے بچالیا۔
پھر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے عذاب سے پناہ مانگنے لگیں۔ میں وہاں کھڑا رہا اور وہ عذاب سے پناہ مانگتی رہیں۔ جب بہت دیر ہوگئی تو میں بازار چلا گیا۔ واپس لوٹا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ابھی تک رو رو کر عذابِ الٰہی سے پناہ مانگ رہی تھیں۔‘‘ (۱)
ذاتُ النِّطاقین:
(1500)…حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء بنت ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتی ہیں کہ جب حضور نبی ٔ مُکَرَّم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کا ارادہ فرمایا تو میں نے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے گھر میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے زادِ راہ تیار کیا۔ والد ِمحترم نے فرمایا: ’’زادِراہ کو لٹکانے اور مشکیزہ باندھنے کے لئے رسی تلاش کرو۔‘‘ میں نے عرض کی: ’’میرے پاس اپنے کمربند کے سوا کچھ نہیں۔‘‘ فرمایا: ’’وہی لے آؤ۔‘‘میں نے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا، ایک سے زاد راہ اور دوسرے سے مشکیزہ باندھا۔ اسی وجہ سے مجھے ذات النطاقین (یعنی دو کمربند والی) کہا جاتا ہے۔‘‘ (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب صلاۃ التطوع والامامۃ، فی الرجل یصلی فیمر بآیۃ…الخ، الحدیث:۳، ج۲، ص ۱۱۵۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث اسماء بنت ابی بکر، الحدیث:۲۶۹۹۴، ج۱۰، ص۲۶۸، بتغیر قلیل۔