ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا صفیہ
رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا صفیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی صحابیات میں سے ہیں۔ آپ متقی و پرہیزگار، خوفِ خدا میں بکثرت آنسو بہانے والی اور پاکیزہ صفات کی مالک تھیں۔
مقامِ صفیہ:
(1497)…حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا صفیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو خبر ملی کہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے انہیں اسرائیلی کی بیٹی کہا ہے تو آپ رونے لگیں۔ اتنے میں مکی مدنی سرکار، دوجہاں کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے اور آپ کو روتا دیکھ کر استفسار فرمایا: ’’کیا ہوا؟‘‘ عرض کی: ’’حضرتِ حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے مجھے اسرائیلی کی بیٹی کہا ہے۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’بے شک تم نبی (یعنی حضرتِ ہارون عَلَـیْہِ السَّلَام) کی بیٹی ہو۔ تمہارے چچا (یعنی حضرتِ موسیٰ عَلَـیْہِ السَّلَام) بھی نبی تھے اور (تم) نبی کی زوجہ ہو تو پھر حفصہ تم پر کیسے فخر کرسکتی ہے؟‘‘ پھر آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم نے ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ارشاد فرمایا: ’’اے حفصہ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو (اور ایسی بات نہ کہو)۔‘‘ (۱)
(1498)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عبیدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا صفیہ بنت حیی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے حجرہ کے قریب جمع ہوکر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرنے، قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے اور سجدے کرنے لگے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے انہیں آواز دے کر فرمایا: ’’یہ سجود وتلاوت قرآن ہے توپھر رونا کہاں گیا؟‘‘ (۲)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند انس بن مالک، الحدیث:۱۲۳۹۵، ج۴، ص۲۷۳۔
المصنف لعبدالرزاق، الباب ازواج النبی، الحدیث:۲۱۰۸۶، ج۱۰، ص۳۵۶۔
2…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، باب ما قالوا فی البکاء من خشیۃ اللّٰہ، الحدیث:۱۱، ج۸، ص۲۹۸۔