راضی ہوجایا کرتی تھیں۔‘‘ (۱)
اَ وَّاہ سے مراد:
(1494)…ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا میمونہ بنت ِ حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مہاجرین کی ایک جماعت میں مالِ غنیمت تقسیم فرما رہے تھے۔ ازواجِ مطہرات میں سے کسی نے کوئی پیغام بھیجا اس وقت بارگاہِ رسالت میں صرف قریبی رشتہ دار ہی تھے۔ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی تمام ازواج کو عطیات دے چکے تو ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنت ِ جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ازواجِ مطہرات میں سے ہر ایک اپنے بھائی یا باپ یا کسی نہ کسی قریبی رشتہ دار کو آپ کے پاس دیکھ رہی ہے۔ لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے سامنے اس (بابرکت ذات رب العالمین) کا تذکرہ کیجئے جس نے آپ سے میرا نکاح کیا۔ حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کے اس طرز گفتگو پر ناگواری کا اظہار فرمایا۔ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمرِفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو ڈانٹا تو انہوں نے کہا: ’’اے عمر! مجھے کچھ نہ کہئے! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اگر آپ کی بیٹی ہوتی تو آپ اِس پر راضی نہ ہوتے (یعنی اس انداز سے پیش نہ آتے)۔‘‘ تو حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے عمر! اسے چھوڑدو کیونکہ یہ اَوَّاہ ہے۔‘‘ ایک شخص نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اَ وَّاہ سے کیا مراد ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’خشوع وخضوع اور عاجزی اختیار کرنے والی۔‘‘ پھر یہ آیت ِ مبارکہ تلاوت فرمائی: اِنَّ اِبْرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾ (پ۱۱، التوبۃ:۱۱۴)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک ابراہیم ضرور بہت آہیں کرنے والا متحمل ہے۔ (۲)
(1495)…حضرتِ سیِّدَتُنا برہ بنت رافع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ جب عطیات دینے کا وقت آیا تو امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنازینب بنت جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی طرف عطیہ بھیجا ہماری موجودگی میں وہ عطیہ ان کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ انہوں نے پوچھا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ عرض کی گئی: ’’یہ وہ عطیہ ہے جو امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمرِفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کی طرف بھیجا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن النسائی، کتاب عشرۃ النسائ، باب حب الرجل…الخ، الحدیث:۳۹۵۰، ص۶۴۵۔
2…کتاب الزھد لابن مبارک، الجزء التاسع، الحدیث:۱۱۵۳، ص۴۰۵، باختصار۔