عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت ِ مقدسہ نازل فرمائی: وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَمْرًا (پ۲۲، الاحزاب:۳۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اور نہ کسی مسلمان مرد نہ مسلمان عورت کو پہنچتا ہے کہ جب اللّٰہ ورسول کچھ حکم فرما دیں (تو انہیں اپنے معاملے کا کچھ اختیار رہے)۔
ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنت ِ جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں پیغام بھیجا اور عرض کی: ’’میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے معافی مانگتی اور اللّٰہ ورسول عَزَّوَجَلَّ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت بجا لاتی ہوں۔ آپ جو مناسب سمجھیں حکم فرما دیں۔‘‘ چنانچہ، پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرتِ زید بن حارثہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ساتھ میرا نکاح فرمادیا۔ میں حضرتِ زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر زبان درازی کر جاتی تھی۔ انہوں نے بارگاہِ رسالت میں میری شکایت کی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میری سرزنش فرمائی۔ لیکن میں نے پھر بھی ان کے ساتھ اچھا برتاؤ نہ کیاانہوں پھر شکایت کی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اپنی زوجہ کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو۔‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’میں اسے طلاق دیتا ہوں۔‘‘ فرماتی ہیں: حضرتِ زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے طلاق دے دی۔ جب میری عدت گزر گئی تو مجھے پتہ بھی نہ چلا کہ (بغیر پیغام بھیجے) ایک دن رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ میرے سر کے بال کھلے ہوئے تھے۔ میں سمجھ گئی کہ آسمان سے کوئی حکم نازل ہوا ہے۔ چنانچہ، میں نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! (کیا) بغیر پیغامِ نکاح اور گواہوں کے (میرا آپ کے ساتھ نکاح ہوگیا ہے؟) ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے نکاح فرمایا اور حضرتِ جبرائیل عَلَـیْہِ السَّلَام گواہ ہیں۔‘‘ (۱)
(1490)…حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ بن طَہْمان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن بیان کرتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا مالک بن انس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو فرماتے سنا کہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لَوْلاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ازواج مطہرات پر فخر کرتے ہوئے فرمایا کرتی تھیں کہ ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… المعجم الکبیر، الحدیث:۱۰۹، ج۲۴، ص۳۹۔