Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
90 - 603
تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس تھا۔ پھر امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے گزارش کی کہ وہ صحیفہ مجھے عطافرما دیں اور قسم کھائی کہ میں اسے واپس لوٹا دوں گا تو آپ نے صحیفہ ان کے سپرد کردیا۔ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مُرَتَّب کردہ نئے صحیفے کا آپ کے صحیفے سے تقابل کیا پھر واپس انہیںلوٹا دیا جسے پاکر وہ بہت خوش ہوئیںاور امیر المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لوگوں کو صحائف لکھنے کا حکم دیا۔ (امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے دورِخلافت 45ہجری میں) جب ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا وصال ہوا (تو صحیفہ حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے سپرد کر دیا گیا اس وقت کے مدینے کے گورنر مروان بن حکم نے) حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاکو پیغام بھجوایا اور قسم دی کہ وہ صحیفہ مجھے دے دو۔ چنانچہ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے صحیفہ اسے دے دیا تو مروان نے اسے دُھلوا دیا۔
ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
	ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنازینب بنت ِ جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  بھی صحابیات میں سے ہیں۔ آپ خوفِ خدا رکھنے والی، رضائے الٰہی پر راضی رہنے والی، بہت زیادہ گڑگڑانے والی اور دین اسلام کی دعوت دینے والی تھیں۔
زوجیتِ مصطفیٰ کاشرف:
(1489)…ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا زینب بنت ِ جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ مجھے قریش کے چند افراد نے نکاح کا پیغام بھیجا تو میں نے اپنی بہن حمنہ کواللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب ِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس مشورہ کے لئے بھیجا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اس شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جو اسے اس کے رب عَزَّوَجَلَّ کی کتاب اور نبی کی سنت سکھائے؟‘‘ عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! وہ کون ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’زید بن حارثہ۔‘‘ فرماتی ہیں: ’’یہ سن کر حمنہ کو بہت رنج ہوا اورعرض گزار ہوئی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ اپنی پھوپھی زاد بہن کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام سے کرنا چاہتے ہیں؟‘‘ پھر حمنہ نے مجھے آکر بتایا تو مجھے حمنہ سے بھی زیادہ رنج ہوااور میں نے اس سے بھی زیادہ سخت الفاظ کہے تو اللّٰہ