(1485)…حضرتِ سیِّدُنا عمار بن یاسر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نَبوَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو حضرتِ سیِّدُنا جبرائیل عَلَـیْہِ السَّلَام نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی: ’’ا نہیں طلاق نہ دیجئے کیونکہ یہ نماز، روزہ کی پابند ہیں اور جنت میں بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ ہوں گی۔‘‘ (۱)
(1486)…حضرتِ سیِّدُنا عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ جب حضور انور، شافع روزِمحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ بنت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو (ایک) طلاق دی اور یہ بات امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو معلوم ہوئی تو اپنے سر پر مٹی ڈالتے ہوئے کہنے لگے کہ ’’اس کے بعد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو عمر کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔‘‘ اگلے روز حضور نبی ٔاکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر وحی نازل ہوئی اور ارشاد ہوا کہ ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّحضرتِ عمر پر رحم فرماتے ہوئے آپ کو حفصہ سے رجوع کا حکم ارشاد فرماتا ہے۔‘‘ (۲)
(1487)…حضرتِ سیِّدُنا ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمرِفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس تشریف لے گئے آپ رو رہی تھیں۔ پوچھا: ’’تمہیں کس چیزنے رُلایا؟ (پھر خود ہی فرمایا:) شاید پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟‘‘ (۳)
قرآنِ پاک جمع کرنے کی ابتدا:
(1488)…حضرتِ سیِّدُنا خارجہ بن زید بن ثابت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے مجھے قرآنِ مجید ایک جگہ جمع کرنے کا حکم دیا تو میں نے اسے چمڑے کے ٹکڑوں، ہڈیوں اور کھجور کی ٹہنیوں میں لکھ کر جمع کیا۔ جب امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ہوا تو امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمرِفاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اسے اپنے پاس موجود ایک صحیفہ میں لکھ لیا۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا وصال ہوا تو وہ صحیفہ زوجۂ رسول ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۳۰۶، ج۲۳، ص۱۸۸۔
2… المعجم الکبیر، الحدیث:۳۰۷، ج۲۳، ص۱۸۸۔
3… المعجم الکبیر، الحدیث:۳۰۵ج۲۳، ص۱۸۸۔