Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
88 - 603
کیونکہ آپ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی شہزادی ہیں اور وہ (ان چیزوں کے متعلق) تمام لوگوں سے زیادہ علم رکھتے تھے، البتہ مجھے آپ کی طبِّی مہارت پر تعجب ہوتا ہے کہ یہ آپ کو کیسے، کہاں سے اور کیونکر حاصل ہوئی؟‘‘آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے میرے کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا: ’’اے عروہ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌعَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو عمر کے آخری ایام میں زہر دیا گیا تو آپ کے پاس (مختلف علاقوں سے) وفود آکر علاج تجویز فرماتے اور میں ان کے بیان کردہ طریقے کے مطابق آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا علاج کرتی۔ اس لئے مجھے اس علم سے بھی آگاہی حاصل ہوگئی۔‘‘  (۱)
ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
	ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ بنتِ عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی صحابیات میں سے ہیں۔ آپ نماز، روزہ کی پابندی کرنے والی، نفس لوَّامہ پر عتاب کرنے والی اور کتابی صورت میں جمع کئے گئے قرآنِ مجید کی وارث تھیں۔
مقام حفصہ:
(1484)…حضرتِ سیِّدُنا قیس بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ پیکرحسن وجمال، بی بی آمنہ کے لعل صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا حفصہ بنتِ عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو (ایک) طلاق دی تو جب آپ کے ماموں حضرتِ سیِّدُنا قدامہ بن مظعون اور حضرتِ سیِّدُنا عثمان بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا آپ کے پاس آئے تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا رونے لگیں اور کہا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے خوش دلی سے طلاق نہیں دی ہے۔‘‘ اتنے میں حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے آپ نے چادر اوڑھ لی تو مصطفیٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’حضرتِ جبرائیل عَلَـیْہِ السَّلَام نے مجھے کہا ہے کہ میں حفصہ سے رجوع کرلوں کیونکہ یہ نماز، روزہ کی پابند ہیں اور جنت میں بھی میری زوجہ ہوں گی۔‘‘ (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۱۲۷، عائشۃ بنت ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہما، ج۲، ص۲۴۔ 
2…المستدرک، کتاب معرفۃ الصحابۃ، باب نزول جبریل الفسخ طلاق حفصۃ، الحدیث:۶۸۱۷، ج۵، ص۱۹۔