روئیں۔ حضرتِ سیِّدُنا ابن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور صلہ رحمی کا واسطہ دیا۔ جب دوسرے حضرات نے بھی اصرار کیا تو پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ان سے بات کی پھر یمن کی طرف خادم بھیج کر 40غلام خرید کر کفارے میں آزاد کئے۔ حضرتِ سیِّدُنا عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: اس کے بعد میں نے سنا کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اپنی نذر کو یاد کر کے رو پڑتیں یہاں تک کہ آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتیں۔ (۱)
(1481)…حضرتِ سیِّدُنا ہشام بن عروہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ ِسے مروی ہے کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ایک لاکھ درہم کے عوض ایک گھر خریدا اور رقم ان کی طرف بھجوادی۔ شام تک آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس ان میں سے کوئی درہم باقی نہ بچا (تمام مال راہِ خدا میں خیرات کردیا) اور خشک روٹی اور زیتون سے روزہ افطار کیا۔ خادمہ نے عرض کی: ’’اے ام المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کاش! آپ ہمارے لئے ایک درہم کا گوشت خرید لیتیں۔‘‘ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: ’’تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا؟‘‘ یا فرمایا: ’’اگر تم مجھے یاد کرادیتیں تو میں ایسا کر لیتی۔‘‘ (۲)
(1482)… حضرتِ سیِّدُنا عروہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ’’میں نے ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے بڑھ کر قرآنِ مجید، فرائض وواجبات، حلال و حرام، اشعار، عربوں کی رِوایات اور حسب و نسب کا جاننے والا کسی کو نہیں دیکھا۔‘‘ (۳)
علم طب میں مہارت:
(1483)… مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا عروہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے کہا کرتے تھے کہ ’’اے امی جان! مجھے آپ کی فقاہت پر تعجب نہیں ہوتا کیونکہ آپ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ محترمہ اور امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی صاحبزادی ہیں، نہ مجھے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے اشعار کاعلم رکھنے اور عربوں کے حالات و واقعات جاننے پر کوئی تعجب ہوتا ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح البخاری، کتاب الادب، باب الہجرۃ، الحدیث:۶۰۷۵-۶۰۷۳، ج۴، ص۱۱۹۔
2…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۱۲۷، عائشۃ بنت ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہما، ج۲، ص۲۲، مفہومًا۔
3…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۱۲۷، عائشۃ بنت ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہما، ج۲، ص۲۴۔