Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
86 - 603
بیدار ہوئیں تو گھبرائی ہوئی تھیں، لہٰذا آپ نے 12ہزار درہم راہِ خدا میں خیرات کرنے کا حکم دیا۔   (۱)
(1480)…ام المؤمنین حضرت سیِّدُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بھتیجے حضرتِ سیِّدُنا عوف بن حارث بن طفیل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنی جائیداد فروخت کرنے کا ارادہ کیا تو حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کہا: ’’میں ضرور ان پر معاملات (یعنی خرید و فروخت) کرنے پر پابندی لگاؤں گا۔‘‘ (جب ام المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو اس بات کا پتا چلا تو) آپ نے نذرمانی کہ ’’وصال فرمانے تک میں حضرت عبداللّٰہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے بات نہیں کروں گی۔‘‘ چنانچہ، جب اسی حالت میں کچھ عرصہ گزرا تو حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے (صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں سے) ہر ایک کو سفارشی بنایا (تاکہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بات کرنے پر راضی ہوجائیں) لیکن انہوں نے بات کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اس قطع تعلقی پر میں گنہگار نہیں ہوں گی۔‘‘ جب قطع تعلقی کو کافی عرصہ گزر گیا (۲)  تو حضرتِ سیِّدُنا مسور بن مخرمہ اور حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن اسود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ام المؤ منین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے بات کی۔ چنانچہ، دونوں حضرات، حضرتِ سیِّدُنا ابن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرتِ سیِّدُنا ابن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ام المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے لپٹ کر رونے لگے۔ آپ بھی بہت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، رؤیا عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا، الحدیث:۲، ج۷، ص۲۴۳۔
	تذکرۃ الحفاظ للذہبی، الطبقۃ الاولی، ام المؤمنین عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا، ج۱، ص۲۶۔
2…شیخ الحدیث علامہ غلام رسول رضوی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ’’اگریہ سوال پوچھا جائے کہ تین دنوں سے زیادہ مسلمان سے مفارقت جائز نہیں۔ ام المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضرت عبداللّٰہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ سے تین روز سے زیادہ ہجرت (مفارقت) کیوں کی؟ جواب یہ ہے کہ ہجرت کے معنی ملاقات کے وقت ترک کلام ہے ام المؤمنین (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کی عبداللّٰہ بن زبیر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے اتنی مدت میں ملاقات ہی نہ ہوئی تھی اور نہ ہی ان کو سلام کہا گیا تھا جس سے انہوں نے اعراض کیا ہو اور عبداللّٰہ بن زبیر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) بھی اجازت کے بغیر ام المؤمنین (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کے پاس نہ آئے تھے ایسی حالت کو ہجرت نہیں کہتے۔‘‘ کچھ آگے جاکر فرماتے ہیں: ’’بعض علما نے یہ جواب دیا ہے کہ عبداللّٰہ  بن زبیر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) نے جو بات کہی تھی وہ عقوق (نافرمانی) کے زمرہ میں آتی ہے اور ام المؤمنین (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا) کا عبداللّٰہ (بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ) سے ہجراں (مفارقت) تادیب ادب سکھانے کے لئے تھا اور عاق (نافرمان) سے ہجرت کرنا مباح ہے۔‘‘ واللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَم!(تفہیم البخاری شرح صحیح البخاری، ج۹، ص۳۱۵تا۳۱۶)