دیا پھر جو کی روٹی سے روزہ افطار کیا۔ خادمہ نے عرض کی: ’’آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ایسا کیوں نہ کیا کہ اس میں سے کچھ درہم بچالیتیں تاکہ ہم اس سے گوشت خرید لیتے آپ بھی کھاتیں اور ہم بھی کھاتے؟‘‘ فرمایا: ’’تم نے مجھے یاد کیوں نہیں دلایا۔‘‘ (۱)
(1475)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن قاسم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم بیان کرتے ہیںکہ ’’امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی طرف بطورِہدیہ بہت سے کپڑے، چاندی اور دیگر سامان بھیجا جو آپ کے حجرہ کے پاس ڈھیر کی صورت میں رکھ دیا گیا۔ جب آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا باہر تشریف لائیں تو اسے دیکھ کر رونے لگیں۔ پھر فرمایا: ’’میرے سرتاج، صاحب ِ معراج صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس قسم کا مال و اسباب نہیں پایا۔‘‘ پھر وہ سارے کا سارا راہِ خدا میں تقسیم کردیا اور اس میں سے کچھ بھی بچا کرنہ رکھا حالانکہ اس وقت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس ایک مہمان بھی ٹھہرا ہوا تھا۔ آپ پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے (وصالِ ظاہری کے) بعد کثرت سے روزے رکھا کرتی تھیں۔ جب افطار کا وقت ہوا تو خشک روٹی اور زیتون کے ساتھ روزہ افطار کیا۔ ایک عورت نے عرض کی: ’’اے ام المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا! جو مال آپ کو ہدیہ کے طور پر دیا گیا اگر آپ حکم دیتیں تو اس میں سے ایک درہم کا ہمارے لئے گوشت خرید لیا جاتا تاکہ ہم اسے کھاتیں۔‘‘ فرمایا: ’’یہی کھاؤ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! اُس میں سے ہمارے پاس کچھ بھی باقی نہیں بچا۔‘‘
حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن قاسم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم بیان کرتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو انگوروں سے بھری ہوئی کچھ ٹوکریاں ہدیہ کی گئیں۔ آپ نے انہیں بھی تقسیم کردیا۔ خادمہ نے بتائے بغیر اس میں سے ایک ٹوکری اٹھالی۔ جب رات ہوئی تو خادمہ وہ ٹوکری لے کر آئی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے پوچھا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ عرض کی: ’’اے میری سردار! یا کہا: اے ام المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا! میں نے ایک ٹوکری اپنے کھانے کے لئے اٹھا لی تھی۔‘‘ فرمایا: ’’تو نے ایک خوشہ کیوں نہ اٹھایا (پوری ٹوکری کیوں اٹھالی)؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں اس میں سے کچھ نہیں کھاؤں گی۔‘‘
(1476)…ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے رضاعی بھائی حضرتِ سیِّدُنا ابوسعید
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۱۲۷، عائشۃ بنت ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ عنہما، ج۲، ص۲۲، مفہومًا۔