Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
82 - 603
 بدلہ عطا فرمائے وہ کتنے اچھے ساتھی اور مہمان ہیں۔‘‘  (۱)
کبھی پیٹ بھرکرکھانانہیں کھایا:
(1467)…ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ’’میں نے حضور نبی ٔ پاک، صاحبِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سوائے چند ایک مرتبہ کے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا(۲)۔ اگر میں رونا چاہتی تو رولیا کرتی۔ نیز آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصالِ ظاہری فرمانے تک آپ کے گھروالوں نے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔‘‘  (۳)
(1468)… ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ’’بے شک تم تواضع کو افضل ترین عبادت سمجھوگے۔‘‘(۴)
(1469)…حضرتِ سیِّدُنا قاسم بن محمد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الصَّمَد فرماتے ہیں کہ ’’ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کثرت سے روزے رکھا کرتی تھیں حتی کہ بکثرت روزے رکھنے کی وجہ سے کمزور ہو جاتیں۔‘‘
سیِّدَتُناعائشہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کی سخاوت:
(71-1470)…حضرتِ سیِّدَتُنا امِ ذرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس آیا کرتی تھیں۔ فرماتی ہیں: ایک مرتبہ ام المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی طرف کسی نے مال کے دو تھیلے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند الحمیدی، احادیث عائشۃ ام المؤمنین، الحدیث:۲۷۷، ج۱، ص۱۳۳۔
	صحیح البخاری، کتاب الاستیذان، باب اذاقال: فلان یقرئک السلام، الحدیث:۶۲۵۳، ج۴، ص۱۷۲، باختصار۔
2…دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1548صفحات پر مشتمل کتاب فیضان سنت جلداول کے باب پیٹ کا قفل مدینہ کے صفحہ11 پر شیخ طریقت، امیراہل سنت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطاّرؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ تحریر فرماتے ہیں: یاد رہے! جب بھی رِوایات میں اَہْلُ اللّٰہ کے پیٹ بھر کر کھانے کا تذکرہ پائیں تو اس سے ایک تہائی پیٹ کا کھانا ہی مراد لیں۔ ہمارے پیٹ بھر کر کھانے اور اُن کے پیٹ بھر کر کھانے میں فَرْق ہوتا ہے۔ کا رِ پا کا ں را قیا س اَزخود مَگیر (یعنی پاک ہستیوں کے کاموں کو اپنے جیسے کام مت سمجھو)۔
3…سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ماجاء فی معیشۃ النبی واھلہ، الحدیث:۲۳۶۳، ج۴، ص۱۵۹، مفہومًا۔
4…المصنف لابن ابی شبیۃ، کتاب الزھد، کلام عائشۃ، الحدیث:۵، ج۸، ص۱۹۲۔