Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
81 - 603
 خوبصورت منظر دیکھ کر) میں حیران ومتحیر ہوگئی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے میری طرف دیکھ کر ارشاد فرمایا: ’’ کیا بات ہے تم اتنی حیران ومتعجب کیوں ہو؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں نے پیشانی مبارکہ پر پسینے کو نور کی طرح چمکتے دیکھا ہے اگر ابوکبیر ہذلی (یہ منظر) دیکھ لیتا تو جان لیتا کہ میرے اس شعر کے اصل مصداق آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی ہیں۔‘‘ تو مصطفیٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ! ابوکبیر ہذلی کیا کہتا ہے؟‘‘ عرض کی: وہ کہتا ہے:
وَمُبَرَّاً مِّنْ کُلِّ غَـیَّرَ حَیْضَۃ                    وَفَسَادِ مُرْضِعَۃٍ وَّدَائٍ مُّغَـیَّل
وَاِذَانَظَرْتَ اِلٰی اَسِرَّۃِ وَجْہِہ                    بَرِقَتْ کَبَرْقِ الْعَارِضِ الْمُتَہَلَّل
	ترجمہ: (ا)…وہ ہر اس بیماری سے جو حیض میں خرابی کا باعث ہو، دودھ پلانے کے فساد اور حالت حمل میں دودھ پلانے کی بیماری سے پاک ہے۔
	(۲)…جب تو اس کے چہرہ کے خطوط دیکھے گا تو وہ چمکیلے بادلوں کی طرح چمکتے نظر آئیں گے۔
	فرماتی ہیں: (میں نے جب یہ اشعار پڑھے تو) آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے ہاتھ میں موجود چیز رکھ کر میری طرف تشریف لائے اور میری پیشانی پر بوسہ دے کر ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تجھے اچھا بدلہ عطا فرمائے تم مجھ سے اتنا خوش نہیں ہوتی ہوگی جتنا میں تم سے خوش ہوتا ہوں۔‘‘  (۱)
سلامِ جبرائیل بنامِ عائشہ:
(66-1465)…حضرتِ سیِّدُنا ابوسلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے آپ کو گھوڑے کی گردن پر ہاتھ رکھے حضرت دِحیَہ کَلْبِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے گفتگو کرتے دیکھا۔‘‘ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟‘‘ عرض کی: ’’جی ہاں!‘‘ تو ارشاد فرمایا: ’’وہ حضرتِ جبرائیل عَلَـیْہِ السَّلَام تھے اور تمہیں سلام کہہ رہے تھے۔‘‘ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے کہا: ’’ان پر بھی سلام اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت ہو اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس ملاقات کرنے والے مہمان کو اچھا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینہ دمشق، باب صفۃِ خَلْقہٖ ومَعرفَۃ خُلقہ، الحدیث:۷۰۳-۷۰۲، ج۳، ص۳۰۸تا۳۰۹۔