اجازت دے دو۔‘‘ چنانچہ، حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا حاضر ہوئے اور کہا: ’’اے ام المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا! آپ کو بشارت ہو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! آپ کی حضرتِ سیِّدُنا محمد مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور ان کے دیگر اصحاب کے ساتھ ملاقات میں صرف جسم سے روح کے جدا ہونے کی دیر ہے۔ آپ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تمام ازواج مطہرات میں سے سب سے زیادہ محبوب تھیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمیشہ پاکیزہ چیز سے ہی محبت فرماتے تھے۔‘‘ ام المؤ منین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: ’’کیا ایسی ہی بات ہے؟‘‘ حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے عرض کی: ’’ابواء کے مقام پر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا ہار گم ہوگیا تو حضور نبی ٔکریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اسے تلاش کرنے میں مصروف ہوگئے جس کی وجہ سے صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کو (وضوکے لئے) پانی بھی نہ مل سکا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت ِ مبارکہ نازل فرمائی: فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا (پ۵، النساء:۴۳) ترجمۂ کنزالایمان: تو پاک مٹی سے تیمم کرو۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس امت کو جو رخصت عنایت فرمائی ہے وہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے سبب اور برکت کی وجہ سے ہے اور مسطح نے جو افواہیں پھیلائیں تھیں ان کے متعلق بھی آپ کی براء ت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے سات آسمانوں سے نازل فرمائی۔ لہٰذا کوئی مسجد ایسی نہیں کہ جہاں دن اور رات کے اوقات میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کیا جاتا ہو اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی شان میں نازل ہونے والی آیات تلاوت نہ کی جاتی ہوں۔‘‘ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: ’’اے ابن عباس! مجھے آپ اپنی صفائی وپاکیزگی بیان کرنے سے دور رہنے دیجئے! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! مجھے یہ پسند ہے کہ میں بھولی بسری ہوتی۔‘‘ (۱)
نوربار پسینہ:
(1464)…ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، منزہ عن الْعُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے جوتے سی رہے تھے اور میں اون کات رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک پیشانی سے پسینہ بہہ رہا تھا جو نور کی طرح چمک رہا تھا۔ (یہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان، کتاب اخبارہ عن مناقب الصحابۃ…الخ، الحدیث:۴۶۰۷، ج۹، ص۹۱۱۔