(1459)… ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! آپ مجھ سے کیسی محبت فرماتے ہیں؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’جیسے رسی کی گرہ۔‘‘ (فرماتی ہیں:) اس کے بعد میں پوچھا کرتی کہ ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! گرہ کیسی ہے؟‘‘ تو ارشاد فرماتے: ’’اپنی حالت پر برقرار ہے۔‘‘ (۱)
(1460)…حضرتِ سیِّدُنا عَرِیْب بن حُمَیْد رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی شان میں گستا خی کی تو حضرتِ سیِّدُنا عمار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’اے بدبخت! گالی خور خاموش ہوجا! تو محبوبۂ رسول رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی شان میں گستاخی کرتا ہے۔ بیشک وہ جنت میں بھی مصطفیٰ جانِ رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زوجہ محترمہ ہیں۔‘‘ (۲)
محبوبۂ محبوبِ خدا:
(1461)…ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بارگاہِ رسالت میں میرے بارے میں کوئی بات کی تو آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اے بیٹی! وہ تیرے والد کی پیاری ہے۔‘‘ (۳)
(63-1462)…حضرتِ سیِّدُنا ابن مُلَیکہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو انہوں نے فرمایا: ’’مجھے ان سے کوئی حاجت نہیں کہ یہ اپنے بارے میں کوئی صفائی پیش کریں۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا عبدالرحمن بن ابی بکر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: ’’اے امی جان! حضرتِ سیِّدُنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہآپ کے گھر کے نیک آدمی ہیں، آپ کی عیادت کے لئے تشریف لائے ہیں۔‘‘ تو ام المؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: ’’انہیں اندر آنے کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الفوائد لتمام الرازی، الجزء الخامس عشر، الحدیث:۹۸۵، ج۲، ص۱۰۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، ذکر ازواج رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ج۸، ص۵۲۔
3…اعتلال القلوب للخرائطی، باب الرغبۃ الی اللّٰہ…الخ، الحدیث:۲۳، ج۱، ص۲۵۔
سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی الانتصار، الحدیث:۴۸۹۸، ج۴، ص۹۵۳۔