تَعَالٰی عَنْہَا دنیا اور اس کی لذات سے کنارہ کش تھیں اور اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال (ظاہری) فرمانے کے بعد آپ کی جدائی میں ہمیشہ آنسو بہاتی رہیں۔
علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: ہمہ وقت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی ملاقات کا مشتا ق رہنے اور (دنیا کی جدائی پر) رونے اور آہیں بھرنے کو ترک کردینے کا نام تصوُّف ہے۔
(1456)…حضرتِ سیِّدُنا مسلم بن صبیح عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مسروق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ جب بھی ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تو یوں کہتے کہ ’’مجھے محبوبۂ محبوبِ خدا، صدیقہ بنت صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کہ جن کی براء ت کتابُ اللّٰہ میں بیان کی گئی ہے۔ انہوں نے یہ حدیث بیان فرمائی۔‘‘ (۱)
سب سے زیادہ پیاری:
(1457)…حضرتِ سیِّدُنا زَمْعَہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابنِ ابی ملیکہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو کہتے سنا کہ حضرتِ سیِّدَتُنا امِ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی طرف سے فریاد رسی کی آواز سنی تو اپنی خادمہ کو بھیجا کہ دیکھ کر آئے انہیں کیا معاملہ پیش آیا ہے۔ چنانچہ، خادمہ گئی اور واپس آکر بتایا کہ ’’ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا وصال ہوگیا ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدَتُنا امِ سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ان پر رحم فرمائے! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اپنے والد حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بعد پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سب سے زیادہ پیاری تھیں۔‘‘ (۲)
(1458)…حضرتِ سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ اسلام میں (ہجرت کے بعد) حضور نبی ٔکریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سب سے پہلی محبت ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے کی۔ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند السیدۃ عائشہ، الحدیث:۲۶۱۰۳، ج۱۰، ص۸۵، بدون فی کتاب اللّٰہ۔
2…مسند ابی داود الطیالسی، ماروت ام سلمۃ، الحدیث:۱۶۱۳، ص۲۲۴۔
3… تاریخ بغداد، الرقم:۱۹۵۲، احمد بن اسحاق بن ابراہیم، ج۴، ص۲۵۴۔