مرد سے ممتاز ہوجاتی ہے۔ (پھر فرمایا:) جب میرا وصال ہوجائے تو تم اور حضرتِ علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا مجھے غسل دینا اور اس وقت میرے پاس کسی کو نہ آنے دینا۔‘‘ چنانچہ، جب حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا وصال ہوا تو امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اور حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے انہیں غسل دیا (۱)۔ (۲)
ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ بنت صدیق، عتیقہ بنت عتیق، محبوبۂ حبیب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی اہلِ صفہ پر شفقت ومہربانی کرنے والوں میں سے ہیں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا قرب خاص رکھنے والی ذات یعنی حضور سیِّدُالْمُرْسَلِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے الفت ومحبت رکھنے والی، تمام عیوب اور دلوں کے شبہات سے پاک اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے قاصد حضرتِ سیِّدُنا جبریلِ امین عَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دیکھنے والی ہیں۔ نیز آپ رَضِیَ اللّٰہُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنت، مجدد دین وملت، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے جب سوال پوچھا گیا کہ عورت مرجائے تو شوہر کو اسے غسل دینا جائز ہے یا نہیں۔ تو آپ نے جوب ارشاد فریا: ناجائز ہے، تنویر الابصار میں ہے، خاوند کو بیوی کے غسل سے منع کیا جائے گا۔ اعلیٰ حضرت مزید فرماتے ہیں اور وہ جو منقول ہوا کہ سیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَـہ نے حضرت بتول زہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو غسل دیا اس کی ایسی صحت ولیاقت حجیت محل نظر ہے۔ دوسری روایت یوں ہے کہ اُس جناب کو حضرت ام ایمن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَسَلَّم کی دائی نے غسل دیا۔ (حدیث علی اور ام ایمن کی روایت میں تعارض یوں مرتفع ہوگا کہ) ام ایمن نے اپنے ہاتھوں سے نہلایا اور سیِّدُنا علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَـہ نے حکم دیا یا اسبابِ غسل کو مہیّا فرمایا۔ (نیز بیوی کو غسل دینا) مولیٰ علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَـہ کے لئے خصوصیت تھی اوروں کا قیاس ان پر روا نہیں۔ ہمارے علماء جو شوہر کو غسلِ زوجہ سے منع فرماتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ بعد موت بسبب انعدام محل (یعنی محل نہ ہونے کے سبب) ملک نکاح ختم ہوجاتی ہے تو شوہر اجنبی ہوگیا۔ مگر نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَسَلَّم کا رشتہ ابدالآباد تک باقی ہے کہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔ (جیسا کہ حاکم، بیہقی اور طبرانی معجم کبیر) حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس اور حضرت مسور رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے وہ نبی ٔکریم صَلَی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَسَلَّم سے راوی ہیں۔ سرکار (صَلَی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے فرمایا: ہر رشتہ اور ہر نسب قیامت کے دن ٹوٹ جائے گا مگر میرا رشتہ اور نسب باقی رہے گا۔ (اسی طرح ردالمحتار، باب صلوۃ الجنائز میں امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَـہُ الْکَرِیْم سے منقول ہے کہ) رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَسَلَّم نے (مجھ سے ارشاد) فرمایا: فاطمہ تیری بی بی ہے دنیا وآخرت میں۔ (فتاوی رضویہ، ج۹، ص۹۲تا۹۴، ملخصًا)
2…السنن الکبر ی للبھیقی، کتاب الجنائز، باب ماوردفی النعش للنسائ، الحدیث:۶۹۳۰، ج۴، ص۵۶۔