عَنْہَا نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب ِلبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے (وصالِ ظاہری کے 6ماہ) بعد وفات پائی اور حضرتِ علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے انہیں رات کے وقت دفن کیا۔‘‘
(1453)…حضرتِ سیِّدُنا ابوجعفر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ’’حضور نبی ٔکریم، رَء ُوفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے (وصالِ ظاہر ی کے) بعد میں نے حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو کبھی ہنستے نہیں دیکھا صرف ایک دن تھوڑا سا ہنسی تھیں اور آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد صرف 6ماہ زندہ رہیں۔‘‘ (۱)
(1454)…حضرتِ سیِّدُنا عبداللّٰہ بن محمد بن عقیل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَکِیْل سے مروی ہے کہ جب حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے وصال کا وقت قریب آیا تو امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو غسل کے لئے پانی رکھنے کو کہا انہوں نے پانی رکھ دیا، آپ نے غسل کیااور کفن کے کپڑے منگوائے۔ چنانچہ، موٹے کھردرے کپڑے لائے گئے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے انہیں پہن لیا اور خوشبو لگائی پھر امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے عرض کی: ’’جب میری روح پرواز کر جائے تو میرے کپڑے نہ اتارے جائیں، کپڑوں سمیت ہی مجھے دفنایا جائے۔‘‘ راوی کہتے ہیں: میں نے امیرالمؤمنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے پوچھا: ’’کیا آپ نے اس کے بارے میں کسی کو بتایا تھا؟‘‘ فرمایا: ’’ہاں! کثیر بن عباس کو اور انہوں نے کفن کے اطراف میں لکھا تھا کہ کثیر بن عباس گواہی دیتا ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘ (۲)
(1455)…حضرتِ سیِّدَتُنا ام جعفر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہَا سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا: ’’اے اسمائ! عورتوں کے (مرنے کے بعد) ان کے ساتھ جو کچھ کیا جاتا ہے وہ مجھے ناپسند ہے کہ عورت پر ایسا کپڑا ڈال دیا جاتا ہے جو اس کے اوصاف ظاہر کردیتا ہے۔‘‘ حضرتِ سیِّدَتُنا اسماء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی: ’’اے شہزادیٔ رسول رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا! کیا میں آپ کو وہ چیز نہ دکھاؤں جو میں نے حبشہ میں دیکھی تھی؟‘‘ چنانچہ، انہوں نے چند تر شاخیں منگوا کر انہیں کمان کی طرح ٹیڑھا کر کے ان پر کپڑا ڈالا تو حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: ’’یہ کتنا اچھا اور کتنا خوبصورت طریقہ ہے کہ اس کے ذریعے عورت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۹۹۴۔۹۹۵، ج۲۲، ص۳۹۹۔
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۹۹۶، ج۲۲، ص۳۹۹۔