شہزادیٔ کونین رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کی آزمایش:
(51-1450)…حضرتِ سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سرکارِمدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’کیا تم میرے ساتھ فاطمہ کی عیادت کو نہیں چلتے؟‘‘ میں نے عرض کی: ’’ہاں! کیوں نہیں۔‘‘ چنانچہ، ہم چل پڑے یہا ں تک کہ جب حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے دروازے پر پہنچے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سلام کیا اور اندر آنے کی یوں اجازت طلب کی: ’’کیا میں اور جو میرے ساتھ ہے اندر آجائیں؟‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’آجائیں لیکن اے اباجان! آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کون ہے؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میرے پاس ایک جبے کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہیں ہے۔‘‘ تو حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اس اس طرح اوڑھ لوپورا جسم چھپ جائے گا۔‘‘ آپ نے انہیں جسم ڈھانپنے کا طریقہ سمجھایا تو انہوں نے عرض کی: ’’بخدا! میرے سر پر کوئی اوڑھنی نہیں ہے۔‘‘
چنانچہ، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی مبارک چادر جو اوڑھ رکھی تھی انہیں دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اسے اپنے سر پر اوڑھ لو۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اجازت دی تو ہم اندر داخل ہوگئے۔ حضور نبی ٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا: ’’اے بیٹی! خودکو کس حال میں پاتی ہو؟‘‘ عرض کی: ’’تکلیف ہے اور یہ بڑھتی ہی جارہی ہے کیونکہ میرے پاس کھانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے بیٹی! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تمام عورتوں کی سردار ہو؟‘‘ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی: ’’اے اباجان! آپ یہ با ت ارشاد فرما رہے ہیں تو حضرتِ مریم بنت عمران رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کہا ں گئیں؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’وہ اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار ہے اور تم اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں نے تمہاری شادی ایسے شخص کے ساتھ کی ہے جو دنیا وآخرت میں سردار ہوگا۔‘‘ (۱)
سیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کا وصال:
(1452)…ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۴۹۳۳، علی بن ابی طالب، الحدیث:۸۵۱۲، ج۴۲، ص۱۳۴۔