(پھر خود ہی فرمایا:) ’’اہل بیت میں سے میری زوجہ حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نزدیک سب سے زیادہ عزت والی تھیں۔ خود ہی چکی چلایا کرتیں حتی کہ ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑجاتے اور مشکیزے میں پانی بھی خود ہی بھرکر لاتیں یہاں تک ان کے سینے پر نشان پڑگئے۔ گھر کی صفائی وغیرہ بھی خود ہی کرتی تھیںجس کی وجہ سے کپڑے غبار آلود ہوجاتے اور ہنڈیا کے نیچے آگ بھی خود ہی جلایا کرتیں جس کی وجہ سے کپڑے میلے ہوجاتے۔ بعض اوقات تنہا گھر کے تمام کام کاج کرنے کی وجہ سے انہیں کافی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔‘‘ (۱)
تسبیح فاطمہ کی فضیلت:
(1448)…امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے کہ حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا حاملہ تھیں۔ جب روٹیاں پکاتیں تو تنور کا کنارہ پیٹ سے لگتا (جس سے انہیں کافی تکلیف ہوتی)۔ چنانچہ، بارگاہِ رسالت میں خادمہ مانگنے کے لئے حاضر ہوئیں تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میں تمہیں خادمہ نہیں دے سکتا اور اہلِ صفہ کو اس حال میں نہیں چھوڑ سکتا کہ ان کے پیٹ بھوک کی وجہ سے سکڑے جارہے ہوں۔ کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں؟ (فرمایا: )جب سونے کے لئے بستر پر جاؤ تو 33مرتبہ سُبْحَانَ اللّٰہ، 33مرتبہ اَلْحَمْدُلِلّٰہ اور 34مرتبہ اَللّٰہُ اَکْبَر پڑھ لیا کرو۔‘‘ (۲)
فضیلتِ خاتون جنت بزبانِ ام المؤمنین:
(1449)…حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں کہ ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا: میں نے پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علاوہ حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے بڑھ کر کسی کو سچا نہیں پایا۔ ایک بار میرے اور حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے مابین کوئی معاملہ ہوگیا تو میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: ’’یارَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! (اس بارے میں) حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھ لیجئے کیونکہ وہ جھوٹ نہیں بولتیں۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسندعلی بن ابی طالب، الحدیث:۱۳۱۲، ج۱، ص۳۲۲۔
2…کتاب الدعاء للطبرانی، باب القول عنداخذ المضاجع، الحدیث:۲۳۱، ص۹۴۔
3…مسند ابی یعلی، مسندعائشۃ، الحدیث:۴۶۸۱، ج۴، ص۱۹۲۔