تمام عورتوں کی سردار:
(1441)…ام المؤمنین حضرتِ سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرضِ وصال میں سب ازواج مطہرات بارگاہِ اقدس میں حاضر تھیں اور کوئی بھی غائب نہ تھی کہ اتنے میں حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اس طرح چلتی ہوئی آئیں جیسا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم چلا کرتے تھے۔ میرے سرتاج، صاحب ِ معراجصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو دیکھا تو ارشاد فرمایا: ’’میری بیٹی کو خوش آمدید!‘‘ پھر انہیں اپنے دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا اور ان سے سرگوشی فرمائی تو وہ رونے لگیں۔ میں نے ان سے کہا: ’’حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ازواج کو چھوڑ کر تمہیں راز کے لئے خاص کیا حالانکہ میں بھی موجود تھی اور تم رو رہی ہو۔‘‘ دوسری بار سرگوشی فرمائی تو حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاہنس پڑیں۔ میں نے کہا: ’’میرا تم پر جو حق ہے یا مجھے تم پر جو حق حاصل ہے تمہیں اس کی قسم مجھے اس راز کے بارے میں بتاؤ۔‘‘ تو انہوں نے کہا: ’’میں رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا رازفاش نہیں کروں گی۔‘‘ جب حضور نبی ٔ کریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ہوا تو میں نے حضرتِ فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: ہاں! اب بتا دیتی ہوں۔ میرا رونا تو اس وجہ سے تھا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ ’’حضرتِ جبرائیل عَلَـیْہِ السَّلَام سال میں صرف ایک مرتبہ مجھے قرآنِ مجید سنایا کرتے تھے مگر اس سال انہوں نے دو مرتبہ سنایا ہے (اس وجہ سے) میرا خیال ہے کہ میرے وصال کا وقت قریب آگیا ہے۔‘‘ یہ سن کر میں رونے لگی تو ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرتی رہو اور صبر کرو میرا تم سے پہلے جانا تمہارے لئے بہتر ہے۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’اے فاطمہ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم تمام جہانوں یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو۔‘‘ فرماتی ہیں: ’’یہ سن کر میں ہنس پڑی۔‘‘ (۱)
فاطمہ میرے جگرکاٹکڑاہے:
(1442)…حضرتِ سیِّدُنا مِسْوَر بن مَخْرَمَہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں: میں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب فضائل فاطمۃ، الحدیث:۲۴۵۰، ص۱۳۳۱۔