Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
71 - 603
نواسۂ رسول حضرتِ سَیِّدُنا امام حسین بن علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا
(1440)…حضرتِ سیِّدُنا محمد بن حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ جب شرپسندوں نے حضرتِ سیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ پر دھاوا بولا اور آپ کو یقین ہوگیا کہ یہ لوگ مجھے شہید کردیں گے تو اپنے اصحاب سے مخاطب ہوکر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد وثنا بیان کی اور فرمایا: ’’تم دیکھ رہے ہو کہ فتنے ہمارے سروں پر منڈلا رہے ہیں اور دنیا تبدیل واجنبی ہوچکی ہے۔ اس کی اچھائیاں منہ موڑ چکی ہیں۔ اب اتنی ہی باقی ہیں جتنا کہ برتن کا بچا ہوا پانی۔ دنیا میں زندگی گزارنا ایسا ہے جیسے چوپائے کو مضر صحت چراگاہ میں چھوڑ دینا۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ حق پر عمل نہیں کیا جارہا اور باطل سے رُکا نہیں جارہا۔ لہٰذا مومن کو چاہئے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ملاقات میں رغبت رکھے اور بے شک میں (موجودہ حالات میں) موت کو باعث سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کو باعث جرم سمجھتا ہوں۔‘‘  (۱)
تذکرۂ صحابیات
شہزادیٔ کونین حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا
	حضرتِ سیِّدُنا شیخ حافظ ابونُعَیْم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدَتُنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا شمار عبادت گزار ومتقی و پرہیزگار خواتین میں ہوتا ہے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سیِّدَہ بتول اور جگر گوشہ ومشابہ رسول اور پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سب سے لاڈلی شہزادی اور آپ کے وصالِ ظاہری فرمانے کے بعد سب سے پہلے وصال فرمانے والی ہیں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا دنیا اور اس کی آسائشوں سے کنارہ کش اور اس کے عیوب وآفات سے بخوبی آگاہ تھیں۔
	علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: وعدوں پر ثابت قدم رہنے اور توشہ آخرت کی تیاری میں مصروف رہنے کا نام تصوُّف ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۲۸۴۲، ج۳، ص۱۱۴، ’’نزل القوم، وانشرشعرت، جرما‘‘ بدلھم ’’نزل عمربن سعد،
	واستمرت،برضا‘‘۔